خاص ایام میں عورت کیلئے حج کے کیا احکامات ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سوال

لڑکی کو حیض آجائے اور اسے حج یا عمرہ کے لیے نکلنا ہو تو کیا حکم ہے؟ کیا اس حالت میں  اس لڑکی کا حرم شریف جانا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو پھر وہ حج یا عمرہ کی ادائیگی کیسے کرے گی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب

جس عورت / لڑکی کو حج یا عمرہ کے لیے نکلنا ہو اور اسے حیض آجائے تو اگر اس نے ابھی تک احرام نہ باندھا ہو  تو بھی کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ عورت حالتِ حیض میں بھی احرام باندھ سکتی ہے، حالتِ حیض میں احرام باندھنے کے بعد عورت  کے لیے تمام افعال کرنا جائز ہیں، صرف طواف کرنا اور نماز پڑھنا منع ہے، اس لیے احرام کی نیت کرتے وقت جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھے، بلکہ غسل یا وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لے، اب اگر اس عورت نےصرف حج کا احرام باندھا ہے تو چوں کہ حالتِ حیض میں مسجد میں داخل ہونا اور بیت اللہ کا طواف کرنا جائز نہیں؛ اس لیے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم نہ کرے، اگر منیٰ جانے سے پہلے پاک ہوجائے تو غسل کر کے طوافِ قدوم کر لے، اور اگر منیٰ جانے سے پہلےپاک نہیں ہوئی تو طوافِ قدوم چھوڑ دے اور منیٰ چلی جائے، طوافِ قدوم چھوڑنے کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا؛  کیوں کہ طوافِ قدوم فرض یا واجب نہیں ، بلکہ سنت ہے، البتہ دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے جس کو “طوافِ زیارت” کہتے ہیں، یہ طواف فرض ہے، لہٰذا اگر عورت اس دوران حالتِ حیض میں ہو تو پاک ہونے تک طوافِ زیارت میں تاخیر کرے، پاک ہونے کے بعد غسل کر کے طواف کرے اور چوں کہ یہ تاخیر عذر کے سبب سے ہوئی اس لیے اس تاخیر کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم واجب نہیں ہوگا۔لیکن اگرپاک ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت نہیں ملتی ہے یا محرم واپس آرہا ہے تو اسی حالت میں طوافِ زیارت کر لے اور حدودِ حرم میں ایک بدنہ (اونٹ، گائے یا بھینس)  ذبح کرے۔ مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کے وقت جو طواف کیا جاتا ہے وہ طوافِ وداع کہلاتا ہے، یہ طواف واجب ہے، لیکن اگر مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت عورت حالت حیض میں ہو تو اس طواف کو چھوڑ دے، حیض کی وجہ سے طواف وداع چھوڑنے سے کوئی کفارہ، دم یا قضا لازم نہیں ہوگی۔

اگر عورت نے حالتِ حیض میں عمرہ کا احرام باندھا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا مثلاً: گھر سے مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے وقت حیض تھا  اور اسی حالت میں احرام باندھنا پڑا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو مکہ مکرمہ جانے کے بعد پاک ہونے کا انتظار کرے اور پاک ہونے کے بعد غسل کر کے عمرہ کرلے، لیکن اگر واپسی سے پہلے پہلے حیض سے پاک ہوکر عمرہ کرنے کی کوئی صورت نہ ہو، یعنی ویزا بڑھانے کی یا محرم کے ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہیں تو مجبوراً حالتِ حیض ہی میں عمرہ کرلے اور حرم کی حدود میں ایک دم (قربانی )  دے دے۔

دار الافتاء بنوری ٹاون

Related Posts