یہ کیا کر دیا ٹینس کھلاڑی سابالینکا نے؟ ورلڈ نمبر 1 نے برسبین میں سب کچھ روند ڈالا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار آرینا سابالینکا نے آسٹریلین اوپن سے قبل شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے برسبین انٹرنیشنل کا ٹائٹل مسلسل دوسری مرتبہ اپنے نام کر لیا۔فائنل میں انہوں نے یوکرین کی مارٹا کوسٹیاک کو سیدھے سیٹوں میں شکست دے کر اپنی برتری ثابت کر دی۔

فائنل مقابلے میں سابالینکا نے ورلڈ نمبر 26 مارٹا کوسٹیاک کو 6-4، 6-3 سے شکست دی۔ یہ میچ صرف 1 گھنٹہ 18 منٹ میں مکمل ہوا۔ سابالینکا کی یہ جیت اس لحاظ سے بھی خاص رہی کہ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی سیٹ نہیں ہارا جو ان کی شاندار تیاری اور اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

Aryna Sabalenka reacts.
Image; Getty Images

مارٹا کوسٹیاک نے فائنل تک پہنچنے کے لیے بہترین کارکردگی دکھائی تھی اور انہوں نے راستے میں ٹاپ 10 کھلاڑیوں جیسیکا پیگولا، میرا اینڈریوا اور امانڈا اینیسی مووا کو شکست دی تاہم فائنل میں وہ سابالینکا کی طاقتور اور درست شاٹس کا مقابلہ نہ کر سکیں۔

میچ کے اہم لمحات

پہلے سیٹ میں سابالینکا نے شاندار آغاز کرتے ہوئے 3-0 کی برتری حاصل کی تاہم کوسٹیاک نے مقابلہ برابر کرتے ہوئے اسکور 3-3 کر دیا۔ اس کے بعد سابالینکا نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ اپنے نام کر لیا۔ دوسرے سیٹ میں بھی سابالینکا نے 3-0 کی برتری حاصل کی اور حریف کو واپسی کا کوئی موقع نہ دیا۔

Aryna Sabalenka in action.
image; Reuters

آسٹریلین اوپن کے لیے مضبوط تیاری

یہ کامیابی سابالینکا کے لیے آسٹریلین اوپن (جو 18 جنوری سے شروع ہو رہا ہے) کے دفاع کی مضبوط بنیاد بن گئی ہے۔ اگرچہ گزشتہ سال وہ ٹائٹل سے محروم رہی تھیں، تاہم اب وہ تیسری مرتبہ آسٹریلین اوپن اور مجموعی طور پر پانچواں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کی خواہاں ہیں۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سابالینکا نے اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور مزاحیہ انداز میں کہا کہ میری ٹیم کا شکریہ جو مجھے سنبھالتی ہے۔ میں واقعی سب سے مشکل شخص ہوں اور آپ وہ لوگ ہیں جو مجھے سب سے بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا کہ میرے بوائے فرینڈ کا بھی شکریہ۔ امید ہے جلد ہی میں آپ کو کچھ اور کہوں گی، ٹھیک ہے؟۔

مارٹا کوسٹیاک کا جذباتی بیان

Marta Kostyuk in action.
image; Reuters

میچ کے بعد مارٹا کوسٹیاک نے اپنے ملک یوکرین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر روز دل کے بوجھ کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں لوگ شدید سردی، بجلی اور گرم پانی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری تک گر چکا ہے۔

Related Posts