راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر گزشتہ رات ایک تاریخی ملاقات دیکھنے کو ملی جب ایران کے قومی سلامتی کے مشیر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی لاریجانی پاکستان پہنچے۔ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے اسٹریٹجک مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے پاکستانی حکام کے ساتھ سیکورٹی، اقتصادی تعاون، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور خطے میں استحکام جیسے اہم امور پر بات چیت کی۔ ایرانی سفارتخانے کے مطابق یہ ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
اسی دوران سعودی عرب کے مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف بھی اسلام آباد پہنچے تاکہ پاکستانی حکام سے بات چیت کریں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر کے بھارت کے بڑھتے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
پاکستان کے سفیر برائے ایران مدثر تیپو نے تصدیق کی کہ یہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ بھارتی دوغلے رویے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی سے تنگ آ کر بھارت سے فاصلے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعاون نے بھی پاکستان کی خطے میں مضبوط سفارتی پوزیشن کو مزید تقویت دی ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں واضح پیغام ہیں کہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب مل کر خطے میں اپنے مفادات اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو رہے ہیں اور بھارت کے کسی بھی اشتعال انگیز قدم کو روکنے کے لیے تیار ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








