پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک آرمی چیف رہے۔
62سالہ سابق آرمی چیف نے آج 29نومبرکو اپنے جانشین جنرل عاصم منیر کو کمان سونپی، انہوں نے 44 سال سے زیادہ فوج میں گزارے، انہوں نے 1978 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا۔
جنرل (ر) باجوہ نے اپنے کیریئر میں 2,190 دن (چھ سال) مسلح افواج کے ساتھ گزارے۔ انہوں نے 29 نومبر 2016 کو جنرل راحیل شریف سے کمان لی تھی۔
توسیع:
جنرل (ر) باجوہ اپنی مقررہ مدت کے اختتام پر 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہونے والے تھے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے 19 اگست 2019 کو ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی۔
28 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے حکومتی حکم نامے کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی قانون نہیں ہے۔
تاہم، عدالت عظمیٰ نے حکومت کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی توسیع دے دی کہ پارلیمنٹ چھ ماہ کے اندر آرمی چیف کی توسیع/دوبارہ تقرری پر قانون سازی کرے گی۔
جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن بالآخر 28 جنوری 2020 کو جاری کیا گیا، جب پارلیمنٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا۔
فوجی سفارت کاری:
جنرل (ر) باجوہ کی فعال فوجی سفارت کاری نے اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔ فوج کی چھ سالہ قیادت کے ساتھ انہوں نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے قریب کیا، افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن کو یقینی بنایا، داخلی استحکام کو بہتر بنایا اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔
افغانستان کا مسئلہ:
جنرل (ر) باجوہ نے افغانستان سے منسلک سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع کروایا، ان کی نگرانی میں فوج نے افغانستان میں سابق حکومت کے ساتھ مشکل تعلقات میں خلل ڈالنے والوں کو لگام ڈالنے کے لیے باڑ لگانے کو ترجیح دی۔ 2018 کے بعد سے، جنرل باجوہ نے دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی پاکستان کی جانب سے سہولت کاری کو عملی جامہ پہنایا، طالبان اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدہ، جو بالآخر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا باعث بنا، پاکستان کی مدد سے دوحہ میں طے پایا۔
آپریشن ردالفساد:
جب جنرل باجوہ نے کمان سنبھالی تو آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا۔
اس آپریشن کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس آپریشن میں بیشتر کارروائیاں انٹلیجنس معلومات کے تحت کی گئی ہیں اور جس کا دائرہ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے لے کر کراچی، بلوچستان اور پنجاب کے صوبوں تک پھیلا دیا گیا۔’رد الفساد‘ کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنانا ہے۔
تنقید:
جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان کی جانب سے ان کی حکومتیں گرانے کے ‘مبینہ’ ماحول پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ خاص طور پر اپریل کے بعد عمران خان اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں ’غیر جانبدار‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
الوداعی خطاب:
سبکدوش ہونے والے آرمی چیف نے کہا کہ وہ پاک فوج کی قیادت کرنے کا موقع ملنے پر شکر گزار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کے لیے ایک ”عظیم اعزاز” ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چھ سالہ دور میں فوج نے ہمیشہ ان کی پکار پر لبیک کہا۔
انہوں نے کہا کہ ”مجھے اپنی فوج پر فخر ہے کہ قلیل وسائل کے باوجود وہ سیاچن کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر تھر کے صحراؤں تک ملکی سرحدوں کا دفاع کرتی ہے۔”
جنرل (ر) باجوہ نے جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف تعینات ہونے پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ ان کی ترقی ملک اور فوج کی ترقی کا باعث بنے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ان کی قیادت میں فوج کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








