بھارت کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک جواہر لعل یونیورسٹی میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔
آج صبح کے وقت جے این یو یونیورسٹی کا ہیش ٹیگ نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا۔
سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ہوا کیا اور یہ موضوع عوام کی توجہ کا مرکز کیوں بنا؟ جس پر متعدد ٹویٹس کے ذریعے حقائق سامنے آئے۔
مختلف ٹویٹس کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے ہندو مذہب کی دو ذاتوں میں سے ایک کو کیمپس چھوڑنے کیلئے نعرے لکھ دئیے اور یونیورسٹی کی کچھ دیواروں پر توڑ پھوڑ بھی کی۔
نئی دہلی میں واقع یونیورسٹی کیمپس کی کئی عمارتیں برہمن اور دیگر ذات کے لوگوں کے خلاف نفرت انگیز نعروں سے پر ہوگئیں۔
اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کی عمارت کی دیواروں پر بھی ایسے نعرے درج ہو گئے جن میں ایک ذات دوسری سے یونیورسٹی کا کیمپس چھوڑنے کا کہتی نظر آئی۔
سوشل میڈیا صارفین کے مابین بھی غم و غصے نے جنم لیا ہے اور بے شمار لوگوں نے پاکستان اور بھارت میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔
No Brahmin calls other castes their enemy.
No Brahmin celebrates a victory of the British against Marathas.
No Brahmin mocks and insults heroes from other castes.
No Brahmin alters Maratha history to suit their narrative.
No Brahmin targets saints from other castes.
Thnx
— Pranav Jadhav (@pranaavj) November 24, 2022
1) This is from JNU.
Slogans on the wall:
1. Brahmin Bharat Chhodo.
2. Brahmino-Baniyas, we are coming for you! We will avenge.School of Language Literature and Culture Studies in JNU. (2nd building, 3rd floor). pic.twitter.com/h4lGkotana
— Anshul Saxena (@AskAnshul) December 1, 2022
Respect every religion but never let them disrespect your own – #Brahmin_Lives_Matter #JNUUniversity pic.twitter.com/Rie5VZsFkh
— Aayush Sharma (@Manas_official) December 2, 2022
Why don’t we have a “Brahmin Act” in the Constitution that we can slαp on anyone who abuses us or threatens us? Don’t we have a right to exist with dignity in this country?? Another gεηocide is not far away!#Brahmin_Lives_Matter#JNUUniversitypic.twitter.com/oZX1w5BFZL
— Alpaca Girl???????? (@AlpaKanyaa) December 2, 2022
These Kamchōr term!tes are doing all this for ensuring their free stay, food and ????????but the problem is…who is funding them to break the society from inside and who is allowing such events?
It’s better to shut down this ant! national adda..! #Brahmin_Lives_Matter#JNUUniversity pic.twitter.com/v7I6DlIbM6— ???????????????????????? ????????????:(: (@Lusifer__Girl) December 2, 2022
الزام کس پر؟
دستیاب معلومات کے مطابق یونیورسٹی کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے 30 نومبر کو درج کیے گئے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نعروں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔
دوسری جانب آر ایس یو سے وابستہ شدت پسند تنظیم اے بی وی پی نے بائیں بازو کے نظرئیے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
حکام کا مؤقف
متعلقہ حکام نے واقعے کے متعلق مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی سب لوگوں کیلئے ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سنتیشری ڈی پنڈت نے یونیورسٹی کی دیواروں کو پراگندہ کرنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں اس قسم کی سرگرمیوں کی سختی سے مذمت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








