سوشل میڈیا صارفین میں قیاس آرائیاں، بھارت کی جواہر لعل یونیورسٹی میں کیا ہوا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک جواہر لعل یونیورسٹی میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

آج صبح کے وقت جے این یو یونیورسٹی کا ہیش ٹیگ نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ہوا کیا اور یہ موضوع عوام کی توجہ کا مرکز کیوں بنا؟ جس پر متعدد ٹویٹس کے ذریعے حقائق سامنے آئے۔

مختلف ٹویٹس کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے ہندو مذہب کی دو ذاتوں میں سے ایک کو کیمپس چھوڑنے کیلئے نعرے لکھ دئیے اور یونیورسٹی کی کچھ دیواروں پر توڑ پھوڑ بھی کی۔

نئی دہلی میں واقع یونیورسٹی کیمپس کی کئی عمارتیں برہمن اور دیگر ذات کے لوگوں کے خلاف نفرت انگیز نعروں سے پر ہوگئیں۔

اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کی عمارت کی دیواروں پر بھی ایسے نعرے درج ہو گئے جن میں ایک ذات دوسری سے یونیورسٹی کا کیمپس چھوڑنے کا کہتی نظر آئی۔

سوشل میڈیا صارفین کے مابین بھی غم و غصے نے جنم لیا ہے اور بے شمار لوگوں نے پاکستان اور بھارت میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

 

الزام کس پر؟

دستیاب معلومات کے مطابق یونیورسٹی کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے 30 نومبر کو درج کیے گئے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نعروں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

دوسری جانب آر ایس یو سے وابستہ شدت پسند تنظیم اے بی وی پی نے بائیں بازو کے نظرئیے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

حکام کا مؤقف

متعلقہ حکام نے واقعے کے متعلق مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی سب لوگوں کیلئے ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سنتیشری ڈی پنڈت نے یونیورسٹی کی دیواروں کو پراگندہ کرنے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں اس قسم کی سرگرمیوں کی سختی سے مذمت کی۔

Related Posts