یونان کی فضاؤں میں آخر کیا ہوگیا؟ ایئر ٹریفک بحران نے سنسنی پھیلا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

یونان میں فضائی نظام اس وقت مفلوج ہو گیا جب ایئر ٹریفک کنٹرول کے انتہائی اہم نظام میں خطرناک تکنیکی خرابی سامنے آ گئی۔ اس اچانک بحران کے نتیجے میں 4 جنوری 2026 کو ملک بھر کی تمام اندرون و بیرونِ ملک پروازیں فوری طور پر گراؤنڈ کر دی گئیں جس سے ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔

ذرائع کے مطابق خرابی ایتھنز فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) میں ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم کے ناکام ہونے سے پیدا ہوئی جو پائلٹس اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کے درمیان مسلسل اور محفوظ رابطے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔رابطہ منقطع ہونے کے باعث پروازوں کی محفوظ رہنمائی ممکن نہ رہی جس پر حکام نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر فضائی آپریشن مکمل طور پر روک دیا۔

Greek FIR Disrupted by Radio Frequency Failure, Flights Grounded Nationwide  - The National Herald

ایئرپورٹس پر افراتفری، مسافر پریشان

ایتھنز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت یونان کے تمام بڑے ہوائی اڈوں پر بدترین افراتفری دیکھنے میں آئی۔ لمبی قطاریں، بھرے ہوئے انتظار گاہیں اور پریشان حال مسافر ہر طرف دکھائی دیے۔ درجنوں بین الاقوامی پروازوں کو مجبوراﹰ اٹلی، ترکی اور قبرص کی جانب موڑ دیا گیا، جبکہ فضا میں موجود طیاروں کو ہنگامی طریقہ کار کے تحت محفوظ انداز میں لینڈ کرایا گیا۔

Flights grounded at all Greek airports – Passenger disruption as NOTAM  issued

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اعتراف

Major crisis in Greece! All flights suspended.

یونانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ریڈیو فریکوئنسیز کی مکمل ناکامی نے صورتحال کو غیر معمولی حد تک سنگین بنا دیا۔ حکام کے مطابق تکنیکی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے اور خرابی کی تشخیص و مرمت کا عمل جاری ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چند گھنٹوں میں سسٹم جزوی طور پر بحال ہو جائے گا اور پروازیں مرحلہ وار دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

سیاحت اور فضائی راستوں پر گہرے اثرات کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے یونان کی سیاحت اور عالمی فضائی ٹریفک پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایتھنز FIR یورپ، ایجیئن سمندر اور مشرقِ وسطیٰ کو جوڑنے والے اہم فضائی راستوں کا مرکز ہے۔ متعدد ایئرلائنز نے متاثرہ مسافروں کو متبادل بکنگ یا ریفنڈ کی پیشکش شروع کر دی ہے۔

فضائی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ جدید ایوی ایشن سسٹمز میں موجود کمزوریوں پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

Related Posts