اسرائیل کی درندہ صفت فوج کا ایک وحشی اور انسانیت سے عاری یونٹ ایسی بھی ہے جس کی غزہ میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کو دیکھ کر امریکا جیسا اسرائیل کا سرپرست اور مددگار بھی اس پر پابندی لگانے پر غور کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن چند ہی دنوں میں مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی “نتزاح یہودا” بٹالین کے خلاف پابندیوں کا اعلان کریں گے۔
العربیہ کے مطابق اس حوالے سے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک ایسے وقت میں ایک اسرائیلی فوجی بٹالین پر پابندی لگا رہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حالت جنگ میں ہے۔
نتزاح بٹالین کیا ہے؟
“نتزاح یہودا” بٹالین دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر پر مشتمل ایک گروپ ہے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد سے متعلق بہت سے تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ خاص طور پر 78 سالہ فلسطینی نژاد امریکی عمر الاسد کی موت جسے گرفتار کرکے تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا۔ اسے چیک پوائنٹ پر ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور سپاہیوں نے اسے ایک سخت سرد رات میں تشدد کے بعد زمین پر پھینک دیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔
واقعے کی تحقیقات کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے اعلان کیا کہ “افواج کی اخلاقی ناکامی اور فیصلے میں غلطی ہوئی ہے، جس سے انسانی وقار کی قدر کو شدید نقصان پہنچا ہے”۔
اس واقعے کے بعد ‘نتزاح یہودا‘ بٹالین کے کمانڈر کی سرزنش کی گئی اور کمپنی کمانڈر اور پلاٹون کمانڈر کو فوری طور پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد فوجیوں کے خلاف فوج داری کیس کی تحقیقات بند کردی گئی تھیں۔
اسرائیل نے دسمبر2022ء میں اس یونٹ کو مغربی کنارے سے منتقل کیا، حالانکہ اسرائیل نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے فوجیوں کے رویے کی وجہ سے ایسا کیا۔ تب سے یہ بٹالین زیادہ تر ملک کے شمال میں خدمات انجام دے رہی ہے۔
’نتزاح یہودا‘ یونٹ کو اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ الٹرا آرتھوڈوکس اور دیگر اسرائیلی فوجی یہ محسوس کیے بغیر خدمت کرسکیں کہ وہ اپنے عقائد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
یہ بٹالین مغربی کنارے میں ایک یونٹ کے طور پر کام کرتا تھا، جس میں بنیادی طور پر حریدی مرد اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے انتہا پسند نوجوان شامل تھے۔ انہیں اسرائیلی فوج کے دیگر جنگی یونٹوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اس یونٹ کے مرد سپاہی خواتین اہلکاروں سے دور رہتے ہیں۔ انہیں عبادت اور مذہبی مطالعہ کے لیے اضافی وقت دیا جاتا ہے۔
’یونٹ‘ کے ارکان نے تشدد کے بہت سے متنازعہ واقعات میں حصہ لیا ہے اور ماضی میں بھی اس یونٹ کو فلسطینی قیدیوں کو اذیت دینے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کے مجرم ٹھہرایا گیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ “نتزاح یہودا” مغربی کنارے میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی یونٹ ہے، جو دائیں بازو کے انتہا پسند آباد کاروں کے لیے ایک منزل بن گیا ہے جنہیں اسرائیلی فوج میں کسی دوسرے جنگی یونٹ میں قبول نہیں کیا گیاجاتا وہ اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








