نئے سال کے آغاز پر ادا کی جانے والی بارہ انگوروں کی دلچسپ رسم کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

انگور، فائل فوٹو

اسپین اور لاطینی امریکا کے کئی حصوں میں نئے سال کی آمد ایک منفرد روایت سے جڑی ہوئی ہے، جسے 12 انگوروں کی رسم کہا جاتا ہے۔ یہ علامتی روایت 31 دسمبر کی رات بارہ بجتے ہی ادا کی جاتی ہے اور اس کا مقصد آنے والے سال کے لیے خوش قسمتی، خوشحالی اور مسرت کی دعا کرنا ہوتا ہے۔

اس رسم کا طریقہ بظاہر سادہ ہے، مگر اس میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ آدھی رات کو گھڑی کی 12 گھنٹیوں کے ساتھ ساتھ ایک ایک انگور کھایا جاتا ہے۔ ہر انگور آنے والے سال کے ایک مہینے کے لیے کسی خواہش، امید یا عہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ روایت عموماً خاندان یا دوستوں کے ساتھ مل کر ادا کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ آتش بازی، موسیقی اور خصوصی کھانوں جیسی دیگر تقریبات بھی ہوتی ہیں۔

12 انگوروں کی اس روایت کی ابتدا انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسپین، خصوصاً الیکانتے کے علاقے میں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق انگور کے کاشتکاروں کو غیر معمولی پیداوار کا سامنا تھا، جس کے باعث انہوں نے لوگوں کو ترغیب دی کہ وہ نئے سال کی ہر گھنٹی پر ایک انگور کھائیں تاکہ انگوروں کی فروخت میں اضافہ ہو۔

یہ عمل رفتہ رفتہ ایک ثقافتی روایت بن گیا اور پہلے پورے اسپین، پھر براعظم امریکا کے ہسپانوی بولنے والے ممالک تک پھیل گیا۔

اسپین میں اس روایت کا سب سے مشہور مقام میڈرڈ کا پوئرتا دل سول ہے، جہاں ہزاروں افراد گھڑیال کے نیچے جمع ہو کر آدھی رات کا انتظار کرتے ہیں۔ اس موقعے کی براہِ راست نشریات کے ذریعے ملک بھر کے گھروں میں لوگ بھی اس رسم میں شریک ہوتے ہیں، تاکہ 12 گھنٹیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں انگور کھائے جا سکیں۔

وقت کی پابندی کو نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص وقت پر تمام 12 انگور نہ کھا سکے تو خوش قسمتی کا اثر کم ہو جاتا ہے۔

یہ روایت دیگر علامتی رسومات کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ لباس یا زیرجامہ پہننا محبت کو متوجہ کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ آدھی رات کو جیب میں پیسے رکھنا دولت کی آمد کی نشانی مانا جاتا ہے۔

لاطینی امریکا کے ممالک جیسے میکسیکو، ارجنٹینا اور کولمبیا میں اس روایت کو مقامی رنگ میں اپنایا گیا ہے، تاہم اس کا تعلق اب بھی امید، نئی شروعات اور تجدید کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔

لوک کہانیوں سے ہٹ کر، 12 انگوروں کی یہ رسم انسان کی اس فطری خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ وقت کے گزرنے کو کسی مقصد اور معنی کے ساتھ منایا جائے، تاکہ ایک نئے دور کا آغاز اجتماعی تجربے میں بدل جائے۔

چاہے یہ رسم بھرے ہوئے چوراہوں میں ادا کی جائے یا گھروں کی نجی محفلوں میں، یہ روایت آج بھی خاندانوں اور برادریوں کو جوڑتی ہے اور سال کے اختتام پر غور و فکر، خوشی اور امید کو فروغ دیتی ہے۔

Related Posts