کمشنر راولپنڈی کا ملک ریاض سے کیا تعلق ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی جانب سے انتخابی عمل میں دھاندلی کا دھماکہ خیز بیان دینے کے بعد ملکی سیاست میں بھونچال کی کیفیت ہے۔

اس ہنگامے کے بیچ بہت سے لوگ کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کو معروف بزنس ٹائیکون ملک ریاض سے جوڑ رہے ہیں اور کچھ لوگ یہ بھی دور کی کوڑی لائے ہیں کہ ان کو اصل تکلیف مریم نواز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے ہے۔

دوسری طرف کمشنر پنڈی کو اپنے ساتھ جوڑے جانے پر ملک ریاض نے ایکس پر فوری طور پر بیان جاری کرکے اس کی تردید کر دی ہے۔

ملک ریاض کا اپنے وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ میں نے کبھی لیاقت چٹھہ سے ملاقات یا رابطہ نہیں کیا، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ملک ریاض نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں افراتفری ہوتی ہے مجھ پر یا میرے ادارے پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔

ملک ریاض کا اپنی ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ہر کوئی بغیر دلیل، منطق یا ثبوت کے انگلیاں اٹھاتا ہے، یہ بہت افسوسناک بات ہے، میں نے کبھی لیاقت چٹھہ سے ملاقات یا رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اس سلسلے میں کسی بھی تحقیقات میں تعاون کیلئے بھی تیار ہوں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میں پاکستان میں استحکام اور خوشحالی کےلیے دعاگو ہوں۔
تاہم یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ آخر کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ کا ملک ریاض سے کیا تعلق ہے اور ملک ریاض کا اس سارے جھگڑے سے کیا لینا دینا ہے؟
ایکس پر اس حوالے سے مختلف ٹوئٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ ملک ریاض کے فرنٹ مین ہیں، اس سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں کئی بار ملک ریاض کی ہاوسنگ سوسائٹی کیلئے مختلف خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ لیاقت چٹھہ کو کمشنر پنڈی ملک ریاض کی ہی سفارش پر لگوایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لیاقت چٹھہ ملک ریاض کے ساتھ زلفی بخاری کا بھی بزنس پارٹنر ہے۔
رہا یہ سوال کہ اس جھگڑے سے ملک ریاض کا کیا تعلق ہے تو کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دراصل ملک ریاض کو اداروں کی طرف سے معافی مل رہی ہے اور نہ ہی اس اہم معاملے میں انہیں کسی طرف سے اہمیت حاصل ہو رہی ہے، جس کے باعث وہ الیکشن کو متنازع کرنے کے درپے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ درحقیقت ملک ریاض کی ن لیگ سے نہیں بنتی اور انہیں پنجاب میں مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے سے ممکنہ طور پر مسائل درپیش ہونے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے اس لیے انہوں نے لیاقت چٹھہ کے ذریعے بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
الغرض جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق سوشلستان میں بحثوں کے طومار نے اس معاملے کو چیستان بنا کر رکھ دیا ہے۔

Related Posts