بنگلادیش میں جاری خونریز مظاہروں کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو سی بی سی

بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، احتجاج پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو  دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ معاملہ کیا ہے جو صورتحال اس حد تک سنگین ہوگئی ہے؟

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلادیش میں 5 روز  سے جاری پرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ حکومت نے مظاہرے روکنے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا ہے، سڑکوں پر فوج  گشت کر رہی ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو  دیکھتے ہی گولی مارنےکا حکم دے دیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق  پہلے دن صرف پولیس میدان میں تھی لیکن پھر بارڈرگارڈ فورس کو ان کی مدد کے لیے لایا گیا لیکن  اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں آسکے جس کے بعد کرفیو نافذ کرکے فوج کو تعینات کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیکسٹ میسج سروسز جمعرات سے معطل ہیں۔ اوورسیز ٹیلی فون کال سروس بھی تعطلی کا شکار ہے۔ بنگلا دیشی میڈیا کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اپ ڈیٹ نہیں ہو رہے۔

تشدد کی وجہ کیا ہے؟

بنگلادیش میں 1971 میں پاکستان سے علیحدگی کی جنگ (پاکستانی نقطہ نظر سے غداری اور بغاوت) لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹا دیے جانے کے خلاف گزشتہ کئی روز سے طلبہ کا احتجاج جاری ہے اور کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ کی پولیس اور حکمران جماعت عوامی لیگ کے طلبہ ونگ سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔

بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کا 56 فیصد حصہ کوٹے میں چلا جاتا ہے جس میں سے 30 فیصد سرکاری نوکریاں 1971کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں، 10 فیصد خواتین اور 10فیصد مخصوص اضلاع کے رہائشیوں کے لیے مختص ہے۔

بنگلا دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم 2018 میں ختم کردیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں اسی طرح کے مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ گزشتہ ماہ ہائی کورٹ نے سرکاری نوکریوں میں 1971 کی علیحدگی کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں کے لیے 30 فیصد کوٹہ بحال کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دوسری جانب بنگلادیشی وزیر اعظم حسینہ واجد نےکوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ’رضاکار‘ قرار دیا ہے جس پر طلبہ مزید مشتعل ہوگئے ہیں۔

خیال رہےکہ بنگلا دیش میں ’رضاکار‘ کی اصطلاح 1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Related Posts