عزاداری شہدائے کربلا اہل بیت نبی کے عشاق کی بہت دیرینہ اور مستحکم روایت ہے۔ یہ روایت خالص عشق اہل بیت پر استوار ہے۔ صدیوں سے قائم اس روایت کو عاشقان اہل بیت دل و جان سے آگے بڑھائے چلے جا رہے ہیں۔
یوں تو پاکستان کا کوئی قابل ذکر شہر ایسا نہیں، جہاں عزاداری حسین کی رسم عقیدت و احترام کے ساتھ نہ منائی جاتی ہو، تاہم کراچی شہر کو اس حوالے سے بہت ہی خاص مقام حاصل ہے۔
کراچی میں عزاداری کی روایت جس شان اور جوش و جذبے سے منائی جاتی ہے، اس کا احساس ہی کچھ اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل محبت ایام عزا میں کچے دھاگے سے بندھے کراچی چلے آتے ہیں اور بصد شوق مراسم عزا میں شریک ہوتے ہیں۔
امامیہ فورم کراچی ایک ایسا ادارہ ہے جو دور دور سے چلے آنے والے محبان اہل بیت کو ایام عزا میں مراسم عزاداری نبھانے کے دوران ہر طرح کی سہولت فی سبیل اللہ فراہم کرتا ہے۔
امامیہ فورم کے سید محمد عباس سے ایم ایم نیوز نے اس حوالے سے خصوصی بات چیت کی اور جاننا چاہا کہ انہوں نے یہ سلسلہ کیسے اور کب شروع کیا اور اس کا کیا پس منظر ہے؟
سید محمد عباس کے مطابق عزاداران حسین کی خدمت کی روایت موکب کہلاتی ہے اور عراق میں نجف اشرف اور کربلا میں اس کے مستحکم سلسلے قائم ہیں۔
سید محمد عباس کے مطابق آٹھ، نو اور دس محرم کے جلوسوں میں شرکت کیلئے کراچی سے باہر سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنی فیملیز کے ہمراہ کراچی کا رخ کرتی ہے۔
سید عباس نے بتایا کہ یہ افراد عزاداری کے تینوں ایام میں مراسم عزا میں شریک ہوتے تھے اور پھر فارغ وقت کسی فٹ پاتھ اور کسی بھی غیر مناسب جگہ پر بغیر کسی سہولت کے گزارنے پر مجبور ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے نجف اشرف کے موکب کی روایت کی پیروی میں باہر سے آنے والے عزاداران کو سہولت بہم پہنچانے کی ٹھانی اور امامیہ فورم کراچی کے تحت موکب عزاداران امام حسین قائم کیا۔
سید محمد عباس کے مطابق امامیہ فورم اس موکب کے تحت باہر سے آنے والے تمام عزاداران کو رہنے کیلئے جگہ اور کھانے پینے کا تمام انتظام کرتا ہے اور یہ سلسلہ چھ سال سے قائم ہے اور چار سو تک مرد و خواتین عزاداران کو تینوں وقت نذر و نیاز، کھانا پینا اور آرام کیلئے جگہ کی سہولت دی جاتی ہے۔