گل پلازا میں آگ کیسے لگی؟ حکام کیا کہتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

گل پلازہ میں لگی آگ بجھائے جانے کا عمل، فائل فوٹو

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتہ کی شب رات گئے بھڑکی آگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے،۔

انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن اوڈھو کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ایک حادثاتی الیکٹریکل شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی باقی ہے۔

اوڈھو نے صحافیوں سے کہا کہ جب آگ مکمل طور پر بجھ جائے اور ٹھنڈا کرنے کا عمل مکمل ہو جائے گا، تبھی ریسکیو ٹیموں کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے بعد آگ لگنے کی حتمی وجوہات معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن عمارت کے پرانے ڈیزائن اور تعمیراتی خامیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا۔ کم وینٹیلیشن اور بند کھڑکیاں دھواں عمارت کے اندر پھنسنے کا باعث بنیں، جبکہ قالین، کمبل اور ریزن پر مبنی سجاوٹی اشیاء جیسے انتہائی آتش گیر مواد کی بڑی مقدار نے آگ کو تیز کر دیا۔

تنگ داخلی راستے بھی فائر فائٹرز کی رسائی محدود کرنے کا سبب بنے۔ ہلاک ہونے والوں میں فائر فائٹر فرقان شوکت بھی شامل ہیں، جنہوں نے آگ بجھاتے ہوئے اپنی جان گنوا دی۔ حکام نے اب تک چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ہسپتال حکام کے مطابق 15 سے 20 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر دھوئیں کے سانس لینے سے متاثر ہوئے۔

زیادہ تر زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ سول ہسپتال کراچی میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی کیونکہ ریسکیو کارروائیاں اگلے دن تک جاری رہیں۔

Related Posts