اسلام آباد کی کامسیٹ یونیورسٹی میں طلبا سے کوئز میں قابل اعتراض سوال پوچھے جانے کی خبر ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، فیکلٹی ممبر کی جانب سے کئے گئے سوال نے بے حیائی کی حوصلہ افزائی کی اور یہ کیا جانے والا سوال کسی بھی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پالیسی کے مطابق نہیں تھا۔
ایک انتہائی قابل اعتراض اور غیر اخلاقی سوال نے طلباء کو چکرا کر رکھ دیا اور سوشل میڈیا پر اسے انتہائی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد لیکچرار کو برطرف کردیا گیا،وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو مطلع کردیا گیا کہ انگلش کمپوزیشن کے امتحان میں متنازعہ سوال کرنے والے فیکلٹی ممبر کو عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔
بیچلر آف الیکٹرک انجینئرنگ کے طلبا انگریزی امتحان میں ایک انتہائی قابل اعتراض سوال پر حیران ہوئے،جبکہ ان سے اس موضوع پر 300 الفاظ کا مضمون لکھنے کو کہا گیا۔
’جولی اور مارک سیناریو‘ کے عنوان سے پیراگراف میں عجیب و غریب صورتحال کی وضاحت کی۔ ”جولی اور مارک، جو بہن بھائی ہیں فیصلہ کرتے ہیں کہ اگر وہ محبت کرنے کی کوشش کریں تو یہ دلچسپ معاملہ ہوگا۔ طالب علموں سے بہن بھائیوں کے درمیان جنسی تعلقات کے بارے میں خیالات کا اشتراک کرنے کو کہا جاتا ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد طلباء کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور احتجا ج کیا گیا، جس کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم او ایس ٹی) نے یونیورسٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور حکومت کو اس سلسلے میں کی گئی کارروائی سے آگاہ کرے۔
وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے بھی متنازعہ کوئز کا نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دے۔
اسلام آباد #COMSATS یونیورسٹی کے معاملے پر @SenatePakistan انتظامیہ سے واقعہ میں ملوث عناصر کے بارے میں پوچھا جائے کہ ان عناصر کا تقرر کس نے کیا تھا۔ ایسے واقعات کا تدارک کیا جائے تا کہ آئندہ ایسے واقعات رونماء نہ ہوں۔
سینیٹ آف پاکستان میں کامسیٹس واقعہ پر اظہار خیال pic.twitter.com/m1gF38hIQf— Senator Mushtaq Ahmad Khan (@SenatorMushtaq) February 20, 2023
وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا کہ کوئز کا مواد انتہائی قابل اعتراض اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نصابی قوانین کے سراسر خلاف ہے۔
سیاست دانوں، صحافیوں، مشہور شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے معاشرے میں فحاشی کو فروغ دینے کی کوشش پر پروفیسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں کامسیٹ یونیورسٹی اسلام آباد (سی یو آئی) کے لیکچرار کے خلاف قابل اعتراض کوئز پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

شکایت کنندہ محمد الطاف نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ لیکچرر نے انگریزی کے امتحانی پرچے میں فحش سوال پوچھا جو اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔
درخواست کے مطابق شکایت کنندہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد کا رہائشی ہے اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے لائرز ونگ کا چیئرمین بھی ہے۔
دریں اثنا، متنازعہ کوئز پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی غصے کا اظہار کیا، اور بہت سے افراد نے حکومت سے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا۔
سینیٹر مشتاق احمد نے اس معاملے کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے اور یونیورسٹی سے پوچھے کہ لیکچرار کو کس نے تعینات کیا۔ اس کے علاوہ جے یو آئی ف کے رہنما مولانا غفور حیدری نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر انگریزی تعلیم کے نام پر طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








