لاہور: مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے جب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا اُس وقت سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں ۔
وزیراعلیٰ پنجاب جو مبینہ طور پر اقتدار چھوڑنے سے گریزاں ہیں عوامی طور پر پی ٹی آئی کے سربراہ کے ساتھ کھڑے ہیں، اُن کا یہ کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پنجاب کے وزیر ہاشم ڈوگر نے اعلان کیا کہ اگر وزیراعلیٰ الٰہی عمران خان کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں تو پنجاب میں پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں گے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر اسمبلی کو تحلیل کردینگے تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب نے خان کی ہدایت پر عمل نہ کیا تو پی ٹی آئی کے تمام 178 ایم پی اے استعفیٰ دے دیں گے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والے سیاسی میدان میں نہیں رہیں گے اور پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کی افواہوں سے عوام میں بے یقینی اور بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں پنجاب اسمبلی کو بغیر کسی تاخیر کے تحلیل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ق نے سابق وزیراعظم سے ان کی زمان پارک لاہور میں رہائش گاہ پر ملاقات میں کیا۔
واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے آئندہ ہونے والے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیاتو 20 دسمبر کو پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں تحلیل کردی جائینگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








