پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر محمد عامر نے ملک کی کرکٹ کے موجودہ حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کی وجہ سے کھلاڑیوں کے درمیان تناؤ اور مقابلہ بڑھ گیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ جب مکی آرتھر کو ہیڈ کوچ اور سرفراز احمد کو کپتان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو اسی وقت احساس ہو گیا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تاریک باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
عامر کا کہنا ہے کہ ان عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد سے قومی ٹیم مسلسل زوال کا شکار ہے اور یہ گراوٹ آج بھی جاری ہے جس سے ٹیم کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بابر اعظم کی کپتانی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ 2023 کے بعد جب بابر کو کپتانی سے ہٹایا گیا تو فوراً انہیں دوبارہ کپتان نہ بنانا چاہیے تھا۔ یہ فیصلہ ان کے نزدیک سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس اقدام سے ٹیم کے اندر کھلاڑیوں کے درمیان تناؤ اور مقابلہ بڑھ گیا جو ٹیم کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
عامر کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ سسٹم میں کتنی ہی خامیوں ہوں مگر ٹیم کو ایک متحد یونٹ کے طور پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جب اندرونی سیاست اور کھلاڑیوں کے درمیان تقسیم شروع ہو جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی بھی بری طرح گرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کرکٹ میں سیاست کا گھناؤنا کھیل ٹیم کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








