جنسی خواہش بہت سے تعلقات میں ایک محرک قوت ہوتی ہے اور انسانی فطرت کا بنیادی حصہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ افراد کے درمیان بہت مختلف ہو سکتی ہے۔
لیکن مردوں کی جنسی خواہش کے بارے میں جو کچھ ہم پہلے سمجھتے تھے، اور یہ کہ یہ کب عروج پر پہنچتی ہے، نئی تحقیق نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
اس ماہ سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں 18 سے 89 سال کے 67 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
سب سے حیران کن نتیجہ یہ سامنے آیا کہ مردوں کی جنسی خواہش دراصل نوجوانی یا بیس کی دہائی میں عروج پر نہیں پہنچتی، جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔
اس کے برعکس محققین نے پایا کہ مردوں میں جنسی خواہش اپنی بلند ترین سطح پر عموماً تیس کی آخری اور چالیس کی ابتدائی عمر میں پہنچتی ہے۔
محققین کے مطابق تعلقات کی نوعیت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مستحکم اور طویل مدتی تعلقات کو زیادہ جنسی سرگرمی اور جذباتی قربت سے جوڑا گیا ہے۔
ایک اور دلچسپ دریافت یہ تھی کہ کسی شخص کا پس منظر بھی اس کی جنسی برانگیختگی کی سطح کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔
شرکاء سے ان کی جنسی خواہش کی عمومی سطح کے بارے میں پوچھنے کے ساتھ ساتھ ان کی عمر، جنس، جنسی رجحان، پیشہ اور تعلیم سے متعلق معلومات بھی حاصل کی گئیں۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ جنسی خواہش میں کمی آتی ہے، لیکن محققین نے پایا کہ خواتین میں یہ کمی مردوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔
بچوں کی موجودگی بھی جنسی خواہش پر اثر انداز ہوتی ہے، اور یہ اثر مردوں اور خواتین میں مختلف ہوتا ہے۔ جن خواتین کے بچے ہوتے ہیں ان میں جنسی خواہش کم دیکھی گئی، جبکہ زیادہ بچوں والے مردوں میں نسبتاً زیادہ خواہش رپورٹ ہوئی۔
ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ حمل، دودھ پلانے اور مینوپاز کے دوران ہارمونل تبدیلیاں ہیں، جو خواتین میں جنسی خواہش کو کم کر سکتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ افراد جو خود کو بائی سیکشوئل یا پین سیکشوئل قرار دیتے ہیں، ان میں جنسی خواہش کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی اطمینان بہتر صحت، کم جسمانی مسائل اور بہتر معیارِ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔
کم جنسی خواہش بعض اوقات صحت کے مختلف مسائل کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے، جن میں ہارمونز، نیند، موڈ، خون کی نالیوں کی کارکردگی اور تعلقات کا معیار شامل ہیں۔
ایک اور تحقیق کے مطابق کم جنسی خواہش رکھنے والے مردوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً دو گنا تک بڑھ سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جنسی خواہش میں تبدیلی ایک فطری عمل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








