پاکستانی قوم کے لیے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ روس کے ساتھ پہلی پائلٹ مال گاڑی چلانے کے شیڈول کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔
یہ تاریخی ٹرین اپنے افتتاحی سفر میں 16 کنٹینرز پر مشتمل چاول کی کھیپ ماسکو لے کر روانہ ہوگی، جو پاک روس تجارتی تعلقات کے نئے دور کی شروعات ہے۔
یہ شاندار منصوبہ 9ویں بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کے تحت شروع کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کراچی بندرگاہ کو ایران، ترکمانستان اور قازقستان کے راستے براہِ راست ماسکو سے جوڑا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم نہ صرف پاکستان کی برآمدات کے لیے نئے دروازے کھولے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی توانائی فراہم کرے گا۔
مئی 2025 میں پاکستان ریلوے اور روسی ریلوے (آر زیڈ ڈی )کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس نے اس تاریخی سروس کی راہ ہموار کی۔
آپ بھی بیروزگار ہیں تو یورپ جاکر قسمت آزمائیں! سویڈن کاورک ویزا حاصل کرنے کا آسان طریقہ
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق چاول کے کنٹینرز جون میں روانگی کے لئے تیار کر لئے گئے تھے لیکن خطے کی صورتحال کے باعث تاخیر ہوگئی، اب دونوں ممالک کے درمیان نئی روانگی کی تاریخ طے کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
پیش کردہ کوریڈور کی مجموعی لمبائی 7,000 کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہوگی اور اندازہ ہے کہ مال گاڑی 20 سے 25 دن میں ماسکو پہنچے گی جبکہ فی کنٹینر لاگت تقریباً 5,600 امریکی ڈالر ہوگی۔
یہ منصوبہ سمندری راستے کے مقابلے میں تیز اور کم لاگت متبادل فراہم کرے گا اور پاکستانی زرعی اجناس کے لئے روس اور وسطی ایشیائی منڈیوں کے دروازے کھولے گا۔
پائلٹ ٹرین کو مستقل زمینی تجارتی راستہ قائم کرنے کی طرف پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے جو پاکستان کے علاقائی تجارتی کردار کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ریلوے کوریڈور کی بدولت ترسیل کا وقت سمندری راستے کے 35 سے 45 دن کے مقابلے میں صرف 20 سے 25 دن رہ جائے گا جبکہ لاگت میں بھی کمی آئے گی جس سے روسی اور وسطی ایشیائی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات مزید مسابقتی ہو سکیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








