اسرائیلی فوج شہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے کب غزہ میں داخل ہوگی، تاریخ آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو الجزیرہ

ایسے وقت جب اسرائیلی حکومت ہزاروں اضافی فوجیوں کی بھرتی کی منظوری دینے کی تیاری کر رہی ہے، اسرائیلی اعلیٰ فوجی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ شہر کے مرکز میں افواج کا داخلہ اکتوبر میں شروع ہو گا۔

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آئندہ دو ماہ کسی ممکنہ معاہدے اور فوج کو غزہ پر یلغار کے لیے تیار کرنے کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ یہ بات “ویلا” ویب سائٹ نے بتائی۔

ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی علاقے پر مکمل کنٹرول کی منصوبہ بندی کو ایک “کارڈ” کے طور پر استعمال کرنے پر غور ہوا ہے جو قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچا سکتا ہے۔

معاہدہ کرنے کی کوشش

ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ اکتوبر میں غزہ کے باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیلنے کا عمل شروع ہو جائے گا، جس سے معاہدے کے مسودے کے لیے وقت ملے گا اور ساتھ ہی فوج کی تیاری میں اضافہ ہو گا تاکہ سخت لڑائی کی جا سکے۔

یہ امکان ہے کہ کنٹرول پلان کو قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اسرائیلی سیکیورٹی و پالیسی کابینہ کے فیصلے کے مطابق غزہ کے شہریوں کی نقل مکانی سات اکتوبر سے شروع کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق “جب ماضی میں رفح پر قبضہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تو چند ہفتوں میں ہی فلسطینی آبادی کا انخلا شروع ہو گیا تھا … اس لیے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ غزہ شہر کے خالی کرانے کی دور کی تاریخ اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی سے قبل قیدیوں کے تبادلے کا آخری موقع دیا جا سکے۔”
لیکن اس تاخیر کے “اضافی فوائد” بھی ہیں، کیونکہ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ “تقریباً دو ماہ کی تیاری سے اسرائیلی فوج کو درست منصوبہ بندی، اپنی فورسز کو تازہ دم کرنے اور بھاری ساز و سامان جیسے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بھاری انجینئرنگ آلات کی تیاری کا موقع ملے گا۔”

اس منصوبے کی منظوری اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے جمعے کو دی تھی۔ یہ وسیع پیمانے پر مغربی اور عرب دنیا کے غصے کا باعث بنا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے غزہ میں 22 ماہ سے جاری جنگ میں “خطرناک اضافہ” قرار دیا ہے۔

یورپی ممالک ڈنمارک، فرانس، یونان، برطانیہ اور سلووینیا، نے سلامتی کونسل میں نیویارک میں ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ امریکہ کے سوا تمام رکن ممالک نے اس درخواست کی حمایت کی۔

دوسری جانب جنگ میں توسیع کے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہوئے ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کو تل ابیب میں احتجاج کیا … اور جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تبادلہ ہو سکے۔

Related Posts