ڈی چوک کا ہنگامہ منتشر ہونے کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی منظر عام سے غائب ہیں، جس پر مختلف قسم کی چہ می گوئیاں کی جا رہی ہیں۔
تاہم اب ان کی ہمشیرہ مریم ریاض وٹو نے اس حوالے سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے اپنی مرضی سے ڈی چوک احتجاج کی جگہ نہیں چھوڑا، ان پر وہاں دو جگہ فائرنگ کی گئی، اس کے گواہ بھی ہیں اور ویڈیوز بھی سامنے آجائیں گی۔
مریم وٹو نے نجی چینل آج سے گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کی خاموشی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے جانے کے بعد ان کے پاس 3 دن تک کوئی فون یا مواصلات کے ذرائع موجود نہیں تھے، جہاں پر وہ تھیں، جہاں انہیں رکھا گیا تھا وہاں فون اور انٹرنیٹ جیمرز تھے۔
مریم وٹو نے کہا کہ کسی نے ابھی تک یہ نہیں پوچھا کہ بشریٰ بی بی اب کیسی ہیں، ان پر فائرنگ ہوئی تھی، اب کس حال میں ہیں، ان پر جب فائرنگ ہوئی تو کوئی ان کے ساتھ نہی تھا، کوئی قیادت نہیں تھی، کوئی خاتون نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ (بشریٰ بی بی) بات کریں گی، لیکن پہلے وہ بات کریں گی عمران خان صاحب سے۔
مریم وٹو نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کی میٹنگ جب ہوئی تو بشریٰ بی بی اس میٹنگ میں نہیں تھیں، علی امین گنڈاپور بشریٰ بی بی کے پاس فون لے کر گئے، انہوں نے کہا کہ میں جو بات کروں گی خان صاحب سے ہی کروں گی۔
مریم وٹو نے کہا کہ مجھے لگتا ہے وہ انتظار کر رہی ہیں کہ خان صاحب سے ان کی ملاقات ہوجائے اور ان کو وہ بتائیں گی کہ کیا ہوا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








