حکومتی اداروں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بار پھر سخت رازداری برقرار رکھتے ہوئے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے ایک نجی اسپتال منتقل کیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیاگیا۔ اس پورے معاملے کو انتہائی سخت سکیورٹی میں انجام دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بشریٰ بی بی کو طبی معائنے کے لیے الشفاء انٹرنیشنل اسپتال جہاں ان کی آنکھ کی سرجری کے بعد فالو اپ چیک اپ کیا گیا۔ ان کی ریٹینا سرجری 17 اپریل کو ہوئی تھی تاہم طبی معائنہ مکمل ہونے کے فوراً بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جس سے عدالتی کارروائی اور انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملے پر پہلے ہی سخت برہمی کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ روز جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران حکومت کے رویے پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ معلومات کو چھپانے اور معاملہ طول دینے کا رجحان واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
عدالت نے بارہا اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ کو طلب کیا ہے تاکہ وہ طبی صورتحال اور ملاقاتوں کی اجازت نہ دینے کی وجوہات پر وضاحت پیش کریں۔ ان کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر وہ پیش نہ ہوئے تو گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب دفاعی وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے عملی طور پر بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا ہوا ہے کیونکہ فروری کے آخر سے ان کی کسی بھی اہل خانہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ ان کے مطابق ان کی طبی حالت میں آنکھوں کے دھبے اور دھندلاہٹ جیسے مسائل شامل ہیں جسکے لیے آزادانہ طبی معائنہ ضروری ہے تاہم حکومت اس کی اجازت دینے سے گریز کر رہی ہے۔
اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہ کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں اور تمام اقدامات جیل مینوئل کے مطابق کیے جا رہے ہیں تاہم عدالت نے ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے مکمل میڈیکل رپورٹ اور ملاقاتوں کے ریکارڈ طلب کر لیے ہیں۔
یہ طبی تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب توشہ خانہ-II کیس پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کو 2025 کے آخر میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کیس میں ان پر مہنگے بلغاری جیولری سیٹ کی غیر قانونی ملکیت رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکومت اس معاملے کو معمول کی انتظامی کارروائی قرار دے رہی ہے تاہم بشریٰ بی بی کی صحت اور علاج سے متعلق معلومات کی رازداری پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے جیل حکام پر ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ سابق خاتون اول کے قانونی اور طبی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








