کون کون سے مذہبی ادارے مشکل کی گھڑی میں سیلاب متاثرین کیساتھ ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک میں تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، بستیاں کی بستیاں سیلابی ریلوں میں بہ گئی ہیں اور چار سو قیامت صغریٰ کا عالم ہے۔ قوم پر آئی مشکل کی اس گھڑی میں مذہبی رفاہی تنظیمیں اور دینی مدارس مصیبت اور آزمائش کے مارے ہم وطنوں کی مدد اور بحالی کے کاموں میں پیش پیش ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کون کون سی تنظیمیں اور ادارے کن کن شعبوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔

یاد رہے اس رپورٹ میں صرف ان اداروں کی خدمات کا ذکر ہے، جو رفاہی میدان میں زیادہ معروف نہیں، ان میں سے بیشتر وہ ادارے ہیں، جو ہنگامی بنیادوں پر سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی میں حصہ لینے کیلئے میدان میں آئے ہیں۔

بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ

کراچی میں قائم بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ معروف دینی تعلیمی ادارے جامعہ بیت السلام کا رفاہی خدمات کا ذیلی ادارہ ہے۔ بیت السلام ٹرسٹ نے حالیہ بارشوں اور سیلابوں کے ابتدائی دنوں سے ہی متاثرین کی امداد کا آغاز کر رکھا ہے۔ بیت السلام ٹرسٹ کے تحت اب تک بلوچستان کے مختلف متاثرہ علاقوں میں پچاس سے زیادہ کنٹینرز میں بھیجا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ اب جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقوں تک پھیل گیا ہے۔

بیت السلام ٹرسٹ نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کیلئے 100 کروڑ روپے تک کی امداد کا ہدف مقرر رکھا ہے اور اس ہدف کے حصول کیلئے ٹرسٹ شب و روز تندہی سے مصروف کار ہے۔

دار العلوم کورنگی کراچی

دار العلوم کراچی ملک کا صف اول کا دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ معروف عالم دین جسٹس ر مفتی تقی عثمانی اس ادارے کے نائب صدر ہیں۔ بارشوں کی ابتدا میں بلوچستان میں تباہی آتے ہی دار العلوم کراچی نے متاثرین کی امداد کیلئے ایمرجنسی ریلیف سیل قائم کیا۔ دار العلوم کراچی نے متاثرین کی بحالی کیلئے سب سے عمدہ فیصلہ کرتے ہوئے بلوچستان کے 100 ایسے افراد کو گھر بنا کر دینے کا اعلان کیا ہے، جن کے گھر سیلاب میں تباہ ہوگئے ہیں۔

دار العلوم کراچی میں رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر عمل درآمد کیلئے پراسس شروع کر دیا گیا ہے، جلد ہی ابتدائی اقدامات کے بعد گھروں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔

ادارۃ الحرمین

کراچی میں قائم جامعۃ الحرمین کا ذیلی ادارہ برائے ہنگامی امداد ادارۃ الحرمین ان اداروں میں شامل ہے، جو سب سے پہلے بلوچستان کے ان متاثرہ علاقوں تک پہنچے جہاں کوئی امداد نہیں پہنچی تھی۔ ادارۃ الحرمین کے مفتی جمال عتیق کے مطابق بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے بعد انہوں نے اپنی رضاکار ٹیم کے ہمراہ تونسہ جنوبی پنچاب کا رخ کیا اور کئی دن تک وہاں متاثرین میں امداد تقسیم کرکے اب وہ سندھ کے مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کر چکے ہیں۔

مفتی جمال عتیق کے مطابق ادارۃ الحرمین اب تک لاکھوں روپے کا امدادی سامان جس میں راشن، ادویہ، ٹینٹ اور بچوں کی خوراک شامل ہے، تقسیم کر چکا ہے۔

جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن

ملک کا معروف دینی ادارہ جامعہ علوم اسلامیہ بھی مشکل کی اس گھڑی میں دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اپنے ہنگامی ریلیف کے ادارے کو فعال کر چکا ہے۔ جامعہ کے ناظم دفتر مولانا اکرام اللہ چترالی کے مطابق جامعہ کے تحت بلوچستان میں قلات تا مشکے اور سندھ کے ضلع میرپور خاص اور ملحقہ علاقوں کے متاثرین میں تین کروڑ تک کا امدادی سامان تقسیم کیا جا چکا ہے اور یہ سلسلہ سرویز کی روشنی میں ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔

انصار الاسلام

یہ جے یو آئی ایف کی رضاکار اسکاؤٹس فورس ہے۔ اس کی بنیادی ذمے داری پارٹی جلسوں اور اجتماعات کی سیکورٹی کے فرائض انجام دینا ہے، تاہم قدرتی حادثات و آفات میں بھی یہ تنظیم خدمات انجام دیتی ہے۔ انصار الاسلام کے رضا کار ملک بھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں متاثرین کو ریسکیو کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد سومرو نے اپنے مدرسے کے شعبہ ہنگامی امداد المحمود فاؤنڈیشن کے تحت شروع دن سے روزانہ تین ہزار سے پانچ ہزار تک متاثرین میں خوراک تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سومرو برادران نے لاڑکانہ اور گرد و نواح کے تین سو سے زیادہ متاثرین کو عارضی طور پر اپنے گھروں میں ٹھہرا کر بھی خدمت خلق کی عظیم مثال قائم کر دی ہے۔

بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ

معروف دینی ادارہ جامعہ بنوریہ کراچی کا ذیلی ادارہ بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ بھی شروع دن سے میدان عمل میں ہے۔ بنوریہ ٹرسٹ کے میڈیا کو آرڈینیٹر  نذیر ناصر کے مطابق بنوریہ ٹرسٹ کے تحت بلوچستان اور تونسہ میں امدادی سرگرمیوں کیلئے بیس قائم کر دیا ہے، جس کے تحت اب تک دو ہزار سے زیادہ متاثرہ گھرانوں تک امدادی سامان بھجوا دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں اب تک ایک اور پنجاب میں چار کنٹینر سامان روانہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بنوریہ ٹرسٹ کے تحت دو سو متاثرین کیلئے گھر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ 

المخزن ٹرسٹ

کراچی کے قدیم تعلیمی ادارے جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم کا شعبہ ہنگامی ریلیف المخزن ٹرسٹ بھی شروع دن سے متاثرین کی امداد کیلئے کوشاں ہے۔ ادارے کے سربراہ معروف دینی اسکالر مولانا ڈاکٹر قاسم محمود ایڈوکیٹ ہیں جن کی کاوشوں سے بارشوں کی ابتدا میں کراچی اور مضافات کے سینکڑوں مستحقین میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، اب المخزن ٹرسٹ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں پشین، خضدار وغیرہ میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کر رہا ہے۔

قاری فیض اللہ چترالی

بہت سے اداروں کی طرح کچھ افراد انفرادی سطح پر بھی تنہا اداروں جتنا کام کر رہے ہیں، ان میں ایک نام قاری فیض اللہ چترالی کا ہے۔ چترال بھی صوبہ خیبرپختونخوا کے شدید سیلاب متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں اب تک دس سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں، تاہم راستے مسدود اور علاقہ دور افتادہ ہونے کے باعث چترال تا حال امدادی سرگرمیوں کے مین اسٹریم سے اوجھل ہے۔ قاری فیض اللہ نے ان حالات میں انفرادی سطح پر اپنی ٹیم کے ہمراہ متاثرین میں راشن، ترپال، ادویہ اور بچوں کی خوراک اور نقدی کی صورت میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ 

شندور ویلفیئر ٹرسٹ

یہ کراچی کے علماء کے ایک گروپ کا ٹرسٹ ہے، یہ ٹرسٹ بھی ان اداروں میں شامل ہے، جو سب سے پہلے بلوچستان پہنچے اور لاکھوں روپے کا سامان انتہائی ضرورت مند متاثرین میں تقسیم کیا۔ ٹرسٹ کے ترجمان مولانا انس حبیب کے مطابق اب ان کا فوکس اندرون سندھ میرپور خاص، لاڑکانہ اور ملحقہ علاقے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ ملک کا دور افتادہ متاثرہ علاقہ ضلع چترال بھی ان کے امدادی پروگرام میں شامل ہے۔ 

البرہان ویلفیئر

معروف اسکالر مفتی سید عدنان کاکاخیل کا ادارہ البرھان بھی اپنی ٹیم کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ البرھان کے تحت روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں متاثرین کو تیار کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

امید فاؤنڈیشن 

جامعہ الشیخ یحیٰ بہادرآباد کراچی کا ذیلی ادارہ ہے، اس کے تحت لیہ میں پانچ سو گھرانوں کیلئے خیمہ بستی قائم کی گئی ہے، جہاں ان کو تمام ضروری سامان مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ 

JSI ویلفیئر

کراچی کے مذہبی حلقوں میں معروف عالم برادران کا ادارہ جوائنٹ سپورٹ انیشیٹو بھی دیگر مذہبی اداروں کی طرح متاثرین کی بحالی میں مصروف ہے۔ جے ایس آئی کے سربراہ مولانا ہدایت اللہ سدوخانی کے مطابق ان کا ادارہ میرپور خاص ڈویژن کے تمام متاثرہ علاقوں میں متاثرین کو کھانے کی فراہمی، متاثرہ گھروں سے پانی کی نکاسی اور متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے جیسی خدمات انجام دے رہا ہے۔

Related Posts