صدر ٹرمپ کو نظر انداز کرنے اور 2025 کا نوبل انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کو دینے پر وائٹ ہاؤس نے نوبل کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چونگ نے اس فیصلے کو “امن پر سیاست کی جیت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششیں اور عالمی امن کے لیے ان کی کاوشیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے قابل ہیں۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: “صدر ٹرمپ امن کے معاہدے کرتے رہیں گے، جنگوں کا خاتمہ کریں گے اور جانیں بچائیں گے۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے درد ہے اور ان جیسا شخص دوبارہ نہیں آئے گا جو اپنی محض قوتِ ارادی سے دنیا بدلنے کی طاقت رکھتا ہو۔”
دوسری جانب نوبل کمیٹی نے ماریا ماچادو کو “آزادی کے ان بہادر محافظوں میں سے ایک” قرار دیا جو آمرانہ حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ان کی طویل جدوجہد کو سراہا۔
ماچادو، جو جمہوریت اور انسانی حقوق کی سرگرم وکیل ہیں، کئی سالوں سے سیاسی انتقام، دھمکیوں اور انتخابی نااہلی کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے انعام کو لاطینی امریکا اور دنیا بھر میں جمہوریت پسند تحریکوں کی فتح قرار دیا گیا ہے۔
اعلان کے بعد اپنے بیان میں ماریا ماچادو نے نوبل امن انعام تمام وینیزویلین شہریوں کے نام کیا جو سخت ترین ظلم کے باوجود آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








