وائٹ ہاؤس نے 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی نامزدگی کا باضابطہ خیرمقدم کیا ہے،اس نامزدگی کو جنوبی ایشیا کی ایک کشیدہ اور خطرناک صورتحال کے دوران ان کی سفارتی کوششوں کا عالمی اعتراف قرار دیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے اس کردار کو تسلیم کیا ہے جو انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں ادا کیا۔
کیرولین نے کہا کہ یہ نامزدگی صدر ٹرمپ کی فیصلہ کن اور بروقت سفارتکاری کا اعتراف ہے، جس نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کو روکنے میں مدد دی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد حکومت نے چند روز قبل سابق صدر ٹرمپ کو 2026 کا نوبل امن انعام دینے کی باقاعدہ سفارش کی تھی۔ یہ سفارش اس سال 6 مئی کو شروع ہونے والے پاکستان بھارت عسکری تنازع میں ان کی ثالثی اور فوری مداخلت کے بعد کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ رسمی سفارشی خط ناروے کی نوبل کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کو اسی انعام کے لیے ایک امریکی ریپبلکن کانگریس رکن کی جانب سے بھی نامزد کیا گیا ہے جس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں ٹرمپ کے کردار کو سراہا۔
Over the past few weeks, President Trump has delivered more wins for the American people than most Presidents do in four years.
WATCH👇 pic.twitter.com/Lw5nRUGCSi
— Karoline Leavitt (@PressSec) July 7, 2025
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل انعام کو اپنے سفارتی اقدامات سے جوڑا ہو۔ اپنی صدارت کے دوران وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں بھارت پاکستان تنازع کو ٹالنے پر نوبل انعام ملنا چاہیے۔
انہوں نے طنزاً یہ بھی کہا کہ وہ مجھے کبھی نوبل نہیں دیں گے، کیونکہ نوبل صرف لبرلز کے لیے ہوتا ہے!
پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران آپریشن بنیانُ المرصوص کے نام سے بھارت کے خلاف وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی جس میں متعدد بھارتی فوجی تنصیبات کو مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی بھارت کی جانب سے پاکستان پر متعدد غیر اعلانیہ میزائل حملوں کے بعد کی گئی تھی۔
پاک فضائیہ نے 6 بھارتی جنگی طیارے جن میں 3 رافیل بھی شامل تھے اور درجنوں ڈرونز مار گرائے۔ پاک بھارت جنگی صورتحال 3 روز جاری رہی، جس کے بعد 10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








