اگلے ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے بھی کئی تجربہ کار کھلاڑیوں کو قومی ٹیم سے باہر کردیا گیاہے۔
سابق کپتان سرفراز احمد ، فاسٹ بالر وہاب ریاض ، تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک ، اوپنرز شرجیل خان اور فہیم اشرف قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے اور اہم بات تو یہ ہے کہ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے ہمیشہ پرفارم یا ہے اور ان کی عدم شمولیت کو نا صرف ماہرین بلکہ شائقین کرکٹ نے بھی سنجیدگی سے اجاگر کیا ہے۔پاکستان کاٹی ٹوئنٹی اسکواڈ گزشتہ چند سالوں میں متعدد تبدیلیوں سے گزرچکا ہے، 2019 ورلڈ کپ کے بعد سے اب تک 11 ون ڈے میں 27 اور 34 ٹی ٹوئنٹی میں 38 کھلاڑیوں کو آزمایا جاچکا ہے۔
پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ ٹی ٹوئنٹی اور نیوزی لینڈ وانگلینڈ کے خلاف سیریز کیلئے پاکستان کے اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم ، شاداب خان ، آصف علی ، اعظم خان ، حارث رؤف ، حسن علی ، عماد وسیم ، خوشدل شاہ، محمد حفیظ ، محمد حسنین ، محمد نواز ، محمد رضوان ، محمد وسیم جونیئر ، شاہین آفریدی اور صہیب مقصود جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں شانواز دھانی ، عثمان قادر اور فخر زمان کو رکھا گیا ہے۔اسکواڈ کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف سلیکٹر محمد وسیم کاکہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔
حیران کن انتخاب قومی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ میں حیران کن طور پر شامل ہونیوالوں میں نوجوان اعظم خان بھی ایک ہیں جنہوں نے تجربہ کار سرفراز احمد کی جگہ چھین لی ہے جبکہ اعظم خان کو انگلینڈ کیخلاف آزمانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنا انتخاب درست ثابت کرنے میں ناکام رہے اس کے باوجود ان کی ٹیم میں شمولیت کافی حیران کن ہے۔
اعظم خان کے علاوہ اسکواڈ میں فارم سے باہر آصف علی کی شمولیت بھی معنی خیز ہے جو جاری کیریبین پریمئر لیگ 2021 میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کرنا انتہائی حیران کن اور غیر منصفانہ انتخاب قرار دیا جاسکتا ہے۔
پی سی بی نے شاید اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ آصف علی نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر پچھلے تین سالوں میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل نہیں کھیلا اور دبئی اور ابوظہبی کی سست رفتار پچوں پر چھ میچوں میں 109اعشاریہ 72 کے اسٹرائیک ریٹ کا حامل ہے۔
خوشدل شاہ کے انتخاب پر بھی سوالیہ نشانات ہیں جنہیں فخر زمان اور شرجیل خان پر ترجیح دی گئی ہے۔حتیٰ کہ فخر زمان کو جنوبی افریقہ میں 193 رنز کی اننگ کھیلنے کے باوجودبطور ریزرو کھلاڑی شامل کیا گیا ہے۔ چیف سلیکٹر کے مطابق صہیب مقصود کی بیٹنگ اور ٹاپ آرڈر میں کہیں بھی پرفارم کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے انہیں فخر زمان پر ترجیح دی ہے۔
تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں 2007 کے بعد سے منعقد ہونے والے بیشتر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹیموں نے سینئر اور جونیئر کے بہترین امتزاج سے جیتے ہیں۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اعظم خان کاٹی ٹوئنٹی میں اسٹرائیک ریٹ تقریباً 150(149اعشاریہ 92) ہے جو ملک میں کھیلنے والے کسی بھی وکٹ کیپربیٹسمین سے کہیں زیادہ ہیں تاہم بین الاقوامی تجربہ نا ہونے کی وجہ سے ان کا انتخاب کسی صورت درست نہیں مانا جاسکتا جبکہ اعظم خان کا وزن بھی ان کی فٹنس پر سوالات اٹھاتا ہے۔
مڈل آرڈر میں تجربے کارشعیب ملک کو پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ۔ تجربہ کار بلے باز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر بہت کرکٹ کھیلی ہے اور ان کا تجربہ ٹیم کے بہت کام آسکتا تھاتاہم انہیں ٹیم میں شمولیت کے قابل نہیں سمجھا گیا۔
ناتجربہ کار مڈل آرڈر کی خامیاں چھپانے کے لیے پاکستان کو بطور بلے باز سرفراز احمدکی ضرورت تھی، سرفراز احمد کے پاس اسپن بولنگ کے خلاف ایک اچھی تکنیک ہے اور انہوں نے متحدہ عرب امارات میں کافی رنز بنائے ہیں۔