کراچی: ایک پاکستانی صحافی جو اس سے قبل معروف میڈیا گروپ کے لیے کام کرچکے ہیں مگر انہیں ملک چھوڑنا پڑ گیا تھا، ٹیکس لیکس کے حوالے سے اپنی کہانی کی وجہ سے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔
2017 میں، جب احمد نورانی اسلام آباد میں دی نیوز کے لیے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے اس دوران ان پر مبینہ طور پر زیرو پوائنٹ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے حملہ کیا اور تشدد کیا۔

اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے ساتھی حامد میر نے کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک بھر کے صحافیوں میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے اور پولیس نے صرف قتل کی کوشش کی دفعات شامل کی ہیں۔ جبکہ پولیس نے ملزمان کے خاکے بھی جاری کر دیے ہیں۔

2020 میں، احمد نورانی نے خطرے کے ماحول میں اسکالرز کے تعاون سے، ریاستہائے متحدہ میں الفریڈ فرینڈلی پریس کے ساتھ کورس کرنے کا سوچا، مگر اس دوران کورونا وباء نے سر اُٹھالیا،اور سرگرمیاں معطل ہوگئیں، اُس دوران بننے والی صورتحال نے احمد نورانی کو ایک سابق اعلیٰ عہدے دار کے مبینہ متنازعہ مالی معاملات کو بے نقاب کرنے کے لئے تحقیقاتی حصے کی پیروی کرنے میں اپنا وقت استعمال کرنے میں مدد کی۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان چھوڑ دیا۔
نومبر 2021 میں لاہور میں احمد نورانی کی اہلیہ پر حملے کی خبروں نے ایک بار پھر ہنگامہ برپا کردیا، صحافی برادری نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔
لاہور کے تھانہ غازی آباد کی حدود میں نورانی کی اہلیہ عنبرین فاطمہ اپنی گاڑی میں جا رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے گاڑی کی طرف دوڑتے ہوئے گاڑی کی ونڈ سکرین کو نقصان پہنچانے کی نیت سے آہنی چیز سے تین سے چار بار حملہ کیا۔
تاہم، احمد نورانی اور ان کی اہلیہ عنبریم فاطمہ کے درمیان تعلقات کو لے کر تنازعات جنم لے رہے تھے، جیسا کہ کچھ رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








