ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کا پرچم بلند کرنیوالاارشد ندیم کون ہے ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹوکیو اولمپکس، پاکستانی ہیرو ارشد ندیم کو وزیراعظم نے طلب کرلیا
ٹوکیو اولمپکس، پاکستانی ہیرو ارشد ندیم کو وزیراعظم نے طلب کرلیا

ٹوکیو اولمپکس کے دوران پاکستان کے ارشد ندیم نے جویلن تھرو کے بین الاقوامی مقابلے میں میڈل راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کر لیا ہے۔جاپان میں جاری ٹوکیو اولمپکس میں میزبان جاپان کے ایتھلیٹ چھائے رہے اورمزید 4 ٹائٹل جیت کر طلائی تمغوں کی تعداد 5 کرلی تھی تاہم ویٹ لفٹر طلحہ نے شاندار مقابلہ کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے تھے جبکہ اب پاکستان کے ارشد ندیم نے جویلن تھرو کے بین الاقوامی مقابلے میں فائنل تک رسائی حاصل کرکے قوم کا سرفخر سے بلند کردیا ہے۔

ٹوکیو اولمپکس
ارشد ندیم نے بدھ کے روز ٹوکیو اولمپکس میں 85اعشاریہ 16 میٹر کے تھرو کے ساتھ مردوں کے جویلن تھرو کے فائنل میں پہنچ کرایونٹ میں پاکستان کے اپنے پہلے تمغے کی امیدوں کو زندہ رکھا ۔اس کارنامے نے انہیں اولمپکس میں کسی بھی ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والا پہلا پاکستانی بنا دیا۔ندیم ارشدکا تھرو بھارت کے نیرج چوپڑا اور جرمنی کے جوہانس ویٹر کے بعد دن کا تیسرا بہترین تھروتھا۔

ٹوئٹرٹاپ ٹرینڈ
ٹوکیو اولمپکس میں اپنی شاندار پرفارمنس سے فائنل کیلئے کوالیفائی کرکے قوم کے دل جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے ارشد ندیم کی شاندار پرفارمنس کی تعریف کررہے ہیں۔

پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر دوسرے نمبر پر ارشد ندیم کا کھیل ’جویلین تھرو‘ ٹرینڈ کررہا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر فیصل جاوید خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میں ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس کے میڈل راؤنڈ کیلئے کوالیفائی کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جبکہ ارشد ندیم جنوبی ایشیا کے بہترین جویلن تھروورز میں شامل ہیں۔

ارشد ندیم کے ماضی کے کارنامے
ارشدندیم کے پاس 86اعشاریہ 38 میٹر تھرو کابہترین ریکارڈہے جو انہوں نے اپریل میں ایران میں امام رضا کپ میں سونے کے تمغے کے دوران حاصل کیا تھا۔ارشدندیم دسمبر 2019 میں جنوبی ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے اور اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفکیشن حاصل کرنے والے چند پاکستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔

ارشد ندیم کی ابتدائی زندگی
ارشد ندیم نے صوبائی سطح پرکرکٹ کھیلی اور ان کو نوجوانی میں اچھا کرکٹر ہونے کے باوجود مقبول ترین کھیل چھوڑنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میرے بڑے بھائی کرکٹ کھیلتے تھے، دوسرے بھائی فٹ بال کے کھلاڑی تھے لیکن میں نے کرکٹ چھوڑ کر جویلن تھرو کا فیصلہ کیا، مجھے معلوم تھاکہ کرکٹ کے مقابلے میں جویلن تھرو میں زیادہ کامیابی کا امکان نہیں ہے لیکن میں نے پھر بھی جویلن تھرو کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے کامیابی بخشی۔

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی
جاپان میں جاری ٹوکیو اولمپکس 2020ء میں  10 میں سے 9 کھلاڑی و ایتھلیٹ ٹوکیو اولمپکس سے بغیر کوئی میڈل جیتے ناکام لوٹنے والے ہیں جبکہ پاکستان کی ہاکی ٹیم لگاتار دوسرے اولمپکس مقابلوں میں کوالیفائی نہیں کر پائی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کھیلوں میں زبوں حالی کی ذمہ داری گذشتہ حکومتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے کھیلوں کے اداروں پر اپنے لوگ بٹھائے، سفارشی بٹھائے اور دیکھتے ہی دیکھتے کھیل کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سابقہ حکومتوں نے کھیلوں کے اداروں میں سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کیں تو موجودہ حکومت نے میرٹ پر تعیناتیاں کیوں نہیں کیں۔

کھیلوں کا زوال
پاکستان میں کھیلوں کے ٹیلنٹ میں کوئی کمی نہیں ہے، ماضی میں پاکستانی کھلاڑی ہاکی اور اسکواش میں عالمی فتوحات حاصل کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ کئی سالوں سے کھیلوں کے ساتھ ہونیوالے کھیل نے کھیلوں کو تباہ کردیا ہے، پاکستان کا قومی کھیل ہاکی تباہی سے دوچار ہے، اسکواش ودیگر کھیلوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ہر کھیل زبوں حالی کا شکار ہے اور وزیراعظم عمران خان کھیلوں میں 3 پی ایچ ڈیز کے دعوؤں کے باوجود ملک میں کھیلوں کے فروغ اور بحالی کیلئے کوئی بھی اقدامات کرنے سے قاصر کیوں ہیں ؟۔

Related Posts