سابق وزیر اعظم عمران خان حکومت کے خلاف اپنی تحریک کا فائنل راؤنڈ شروع کر چکے ہیں، تاہم تحریک کے اس فائنل مرحلے کے دوران وزیر آباد کے مقام پر ان کے قافلے کے ساتھ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ عمران خان کا مارچ وزیر آباد میں ایک مقام پر پہنچا تو یکایک ہجوم میں سے ایک نوجوان نے پستول سے ان کا نشانہ لیا، تاہم اللہ نے کرم کیا، عمران خان کی جان محفوظ رہی۔
میجر جنرل فیصل پر الزام
اس واقعے کے فوری بعد جناب عمران خان نے تین افراد کو اس واقعے میں نامزد کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے ساتھ یہ تیسرے فرد آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل نصیر تھے۔ جنرل صاحب کا نام اس سے پہلے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کے کیس میں سامنے آیا تھا۔
عمران خان کی جانب سے اس الزامی نامزدگی کے بعد تینوں شخصیات پر وزیر آباد واقعے کا الزام پارٹی پالیسی بن گیا، تاہم گزشتہ دن نجی چینل پر میجر ر خرم حمید روکھڑی نامی شخص نے آکر یہ انکشاف کیا کہ وزیر آباد واقعے کے بعد وہ پی ٹی آئی لیڈرشپ کے حکم پر وزیر آباد واقعے کا الزام سہنے والے میجر جنرل فیصل سے ایک سے زائد بار ملے ہیں۔
خرم حمید روکھڑی کا یہ دعویٰ پی ٹی آئی کے اس الزام کے یکسر منافی تھا، جس میں جنرل فیصل کو بطور ولن نمایاں کیا جا رہا تھا، چنانچہ روکھڑی کا دعویٰ سامنے آتے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس شخص کو وہ جانتے ہی نہیں۔

خرم حمید روکھڑی نے اپنا دعویٰ جیو ٹی وی کے معروف میزبان حامد میر کے پروگرام میں پیش کیا تھا، پی ٹی آئی رہنماؤں کی پر زور تردید کے بعد حامد میر تصاویر اور ویڈیو ثبوں کے ساتھ یہ بات ثابت کردی کہ میجر ر خرم حمید پی ٹی آئی لیڈر شپ کیلئے اجنبی نہیں ہیں۔
خرم حمید روکھڑی کون ہیں؟
حامد میر نے اپنے رد عمل میں بتایا کہ میجر ر خرم حمید روکھڑی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔
یہ بحث چھڑنے کے بعد کہ روکھڑی کون ہے، حامد میر سمیت متعدد افراد کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ میجر (ر) خرم حمید روکھڑی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور اسٹیلبشمنٹ کے درمیان رابطہ کار کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں اور یہ معاملہ صرف جنرل فیصل تک ہی محدود نہیں ہے، ماضی میں بھی وہی عمران خان کیلئے یہ خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔
میجر (ر) خرم حمید روکھڑی کا تعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کے آبائی علاقے اور ان کے حلقہ انتخاب میانوالی سے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








