سوات میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں قتل ہونیوالا شخص کون تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Who is responsible for the Swat incident?

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات مدین میں جمعرات کی شب قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص کو قتل کرکے اس کی لاش کو نذر آتش کردیا گیا، اس واقعہ کو بھارت سمیت مختلف ممالک کے میڈیا نے نمایاں کوریج دی۔

پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے، گزشتہ ماہ پنجاب کے علاقے سرگودھا میں ایک مسیحی شخص کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔

فروری 2023 میں میں ننکانہ صاحب کے علاقے واربرٹن میں توہینِ مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو مشتعل افراد نے پولیس کی حراست سے چھڑوا کر ہلاک کر دیا تھا۔

اگست 2023میں جڑانوالہ میں توہین قرآن کے الزامات کے بعد مسیحی آبادیوں پر حملے کے واقعات پیش آئے جن میں مشتعل ہجوم نے 19 گرجا گھروں اور مسیحی عبادت گاہوں کے علاوہ 86 مکانات کو آگ لگائی اور ان میں توڑ پھوڑ کی تھی۔

 دسمبر 2021 میں سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری کو ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا، 2010میں سیالکوٹ میں ہی دو بھائیوں منیب اور مغیث کو مذہب کی توہین کے الزام میں قتل کردیا گیا تھا۔

2017 میں مردان میں مشعال خان نامی نوجوان طالب علم کو مشتعل افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

سوات کے علاقے مدین میں جمعرات 20 جون 2024 کو مدین کے ایک ہوٹل کے عملے نے پولیس کو مبینہ توہین قرآن کی اطلاع دی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تاہم ہجوم نے ملزم کو پولیس سے چھڑواکر قتل کردیا اور لاش کو آگ لگادی۔

مرنے والا سیاح محمد اسماعیل ولد قمر عزیز پنجاب کے علاقے سیالکوٹ کا رہائشی تھا، مقتول پنجاب سے عید کی تعطیلات میں تفریح کی غرض سے سوات آیا تھا تاہم اس نے اس فعل کا ارتکاب کیوں کیا ہے اس کی تحقیقات ہونا باقی ہے۔

Related Posts