بوٹ بیسن کراچی میں 19 فروری کو دو شہریوں پر حملے کے مرکزی ملزم شاہ زین مری کے بارے میں ہر کوئی متجسس ہے کہ آخر اس دیدہ دلیری سے سرعام ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں کو غلاموں کی طرح پیٹنے والا بدمعاش کون ہے؟
دو شہریوں کو سرعام اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ پیٹنے والے اس شخص کی شناخت شاہ زین مری کے نام سے ہوگئی ہے اور یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ شخص کچھ عرصہ قبل بھی کراچی ہی میں ایسی ہی غنڈا گردی کر چکا ہے۔
شاہ زین مری کون ہے؟
بتایا جاتا ہے کہ شاہ زین مری کا تعلق بلوچستان کے ایک بااثر جاگیردار خاندان سے ہے۔ شاہ زین مری کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں مقیم تھا اور اس وقت خبروں کی زینت بن گیا جب اس کی شہریوں پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد نے پہلے اپنی گاڑی کو ریورس کر کے دوسری گاڑی سے ٹکرایا اور پھر اسلحہ نکال کر اس میں سوار شہریوں پر حملہ کر دیا۔
بزدل طرم خان
بعد ازاں یہ بظاہر طرم خان دکھائی دینے والا اندر سے بزدل شخص پولیس کی جانب سے اپنے اور اپنے محافظوں کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتاری کے خوف سے بلوچستان فرار ہو گیا۔
مدعی کا کیا کہنا ہے؟
مدعی مقدمہ کے مطابق حملے میں چھ سے سات مسلح افراد شامل تھے، جو بظاہر نشے کی حالت میں لگ رہے تھے۔ یہ واقعہ 19 فروری کو بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں پیش آیا۔
سندھ حکومت کیلئے بڑا چیلنج
شاہ زین مری کو بلوچستان کے ایک بااثر شخصیت کا بیٹا بتایا جا رہا ہے اور اس کیس میں اس کی گرفتاری سندھ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہی طرم خان اپریل 2023 میں بھی کراچی کے سی ویو علاقے میں ایک ریستوران پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث پایا گیا تھا، جس میں ریستوران کا مینیجر زخمی ہو گیا تھا، مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








