قران کی بے حرمتی کرنے والی ٹرمپ کی قریبی ساتھی ویلنٹینا گومز کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی ریپبلکن پارٹی کی امیدوار ویلنٹینا گومز نے ایک بار پھر متنازع حرکت کرتے ہوئے قرآن کریم کی بے حرمتی کی جس سے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

گومز نے ایک ویڈیو بنائی جس میں وہ فلیم تھرور گن سے قرآن پاک کے نسخے کو جلا رہی ہیں اور مسلم کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کر رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ ٹیکساس سے اسلام کو ختم کرنے کی بات کرتی نظر آئیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ اگرچہ کئی پلیٹ فارمز نے اس ویڈیو پر پابندی لگائی لیکن ایکس پر یہ اب بھی گردش کر رہی ہے۔

گومز جو ٹیکساس کی 31 ویں پارلیمانی نشست کے لیے الیکشن لڑ رہی ہیں نے ویڈیو میں کہا کہ مسلم کمیونٹی کو 57 مسلم ممالک میں سے کسی ایک میں چلے جانا چاہیے۔ وہ خود کو سابق صدر ٹرمپ اور ان کی “میک امیریکہ گریٹ اگین” مہم کی حامی ظاہر کرتی ہیں اور مسلم کمیونٹی پر عیسائی ممالک کو تشدد کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کرتی ہیں۔انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اس کے اس نام نہاد مشن میں اس کا ساتھ دیں۔

 امریکہ میں ٹیکساس کی 31 ویں پارلیمانی نشست سے الیکشن لڑنے والی ریپبلکن امیدوار ویلنٹینا گومز نے ایک بار پھر ناپاک حرکت کی ہے۔ اس بار اس نے ایک ویڈیو بنایا ہے، جس میں وہ فلیم تھرور گن سے قرآن کریم کے نسخے کو نذر آتش کرتی نظر آرہی ہے ۔ یہ ویڈیو وائرل ہوگیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے فوری طور پر اس پر پابندی لگا دی۔ ٹویٹر پر یہ ویڈیو اب بھی وائرل ہو رہی ہے۔

ویلنٹینا گومز 1999 میں کولمبیا کے شہر میڈیلن میں پیدا ہوئیں اور 2009 میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئیں۔ انہوں نے رئیل اسٹیٹ اور فنانس کے شعبوں میں کام کیا اور نیسلے میں اسٹریٹجک آپٹیمائزیشن کے منصوبوں سے بھی وابستہ رہیں تاہم سیاست میں قدم رکھنے کے بعد سے وہ تنازعات کا شکار رہی ہیں۔ ان کا طرز عمل اشتعال انگیز بیانات اور پرتشدد حرکات پر مبنی ہے۔ وہ نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ ایل جی بی ٹی کمیونٹی، سیاہ فام افراد اور تارکین وطن کے خلاف زہریلے تبصروں کے لیے جانی جاتی ہیں۔

 امریکی مسلمانوں کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور مذہبی آزادی کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور دیگر سول سوسائٹی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویلینٹینا گومز کو اس نفرت انگیز اور اشتعال انگیز اقدام پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

امریکی مسلم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور گومز کے اس عمل کو معاشرے کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ گومز کو اس نفرت انگیز حرکت کی جواب دہی کرنا ہوگی اور مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ دیگر سول سوسائٹی گروپس نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور گومز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Related Posts