عمر ایوب کی تقریر، پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کس نے کی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: فرنٹیئر پوسٹ)

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے بعد شکست کھا جانے والے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب نے تقریر کی، اس دوران پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے 1گھنٹہ 22 منٹ تک مسلسل تقریر کی، جس کے بعد متوقع قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کو تقریر کا موقع دیا گیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے اراکین کو احتجاج کا موقع مل گیا، تاہم لیگی اراکین کا احتجاج نہ ہونے کے برابر رہا۔

ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ نے عمر ایوب خان کو تقریر کے دوران 2 بار ٹوک دیا اور کہا کہ اپنی تقریر سمیٹیں، تاہم عمر ایوب خان نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پارلیمانی قواعد کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور قائدِ ایوان کو تقریر ختم کرنے کیلئے کہنا خلافِ ضابطہ ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تصویر نشر کرنے پر پابندی عائد ہے، یہی وجہ ہے کہ جب عمر ایوب کی تقریر کے دوران ایک رکنِ اسمبلی نے عمران خان کی تصویر اٹھائے رکھی، تو عملے کی دوڑیں لگ گئیں۔ سرکاری ٹی وی نے عمر ایوب کو زوم ان کرکے دکھانے کا عمل جاری رکھا۔

زوم اِن کرنے کا مقصد عمران خان کی تصویر کو منظر سے غائب کرنا تھا، تاہم ایک نجی چینل نے عمر ایوب کی تقریر لائیو نشر کردی، جو قواعد کی خلاف ورزی تھی۔ ایوان کی کارروائی نشر کرنے کے حقوق صرف سرکاری ٹی وی کے پاس ہیں۔نجی ٹی وی رپورٹر نے یہ ”کارنامہ“ اپنے موبائل فون سے انجام دیا۔

تقریر کے دوران عمر ایوب نے ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرکے کہا کہ سرکاری ٹی وی میری تقریر دکھانے کی بجائے کاٹ رہا ہے، انہیں ہدایت کریں۔ جواب ملا کہ پی ٹی وی نے اشتہارات کا کہا ہے، شاید اسی وجہ سے آپ کی تقریر نہیں چل رہی۔ اس بات پر قومی اسمبلی اراکین نے قہقہے لگا دئیے۔

Related Posts