آغا سراج درانی کون تھے! جانیں پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما کی داستان حیات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کا کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ برین ہیمرج کے باعث انتقال کرنے والے پی پی رہنما 72 سال کے تھے اور ان کا تعلق گڑھی یاسین سے تھا۔

آغا سراج درانی کا پورا نام محمد آغا سراج خان درانی بارکزئی تھا۔ وہ 5 اکتوبر 1953 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1971 میں کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول سے میٹرک کیا پھر کامرس میں گریجویشن کیا اور سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے لندن سے بار اٹ لا کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی لیکن امریکہ جا کر ٹیکساس یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا کورس کیا جو ایک سال بعد چھوڑ دیا اور پھر امریکہ میں انہوں نے ہارڈویئر کا کاروبار بھی چلایا۔

1985 کے انتخابات میں شکست کے بعد وہ دوبارہ امریکہ چلے گئے جہاں وہ پیپلز پارٹی کے اوورسیز ونگ کے سرگرم رکن رہے۔ 1988 میں جنرل ضیاء الحق کی موت کے بعد وہ پاکستان واپس آئے اور سیاست میں سرگرم ہوئے۔

آغا سراج درانی ذوالفقار علی بھٹو سے بہت متاثر تھے۔ان کے والد آغا صدرالدین اور چچا آغا بدرالدین بھی سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر تھے اور پیپلز پارٹی کے وفادار رہے۔ آغا سراج درانی خود 2013 سے 2024 تک سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے۔

No photo description available.

ان کا سیاسی خاندان بہت پرانا اور معتبر تھا۔ ان کے چچا آغا بدرالدین نے 1940 کی دہائی میں سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور بعد میں اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آغا بدرالدین پاکستان مسلم لیگ کے معروف رہنما تھے جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لیے قرارداد بھی پاس کروائی تھی۔

آغا سراج کے دادا آغا شمشادالدین، ایک معروف شاعر، موسیقار اور محقق تھے جنہوں نے اپنی حویلی میں ایک بڑی لائبریری بنائی تھی جسے آشیانہ کہا جاتا تھاجہاں دنیا بھر کے علماء آتے تھے۔

آغا سراج درانی صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست تھے۔ 1970 کی دہائی میں ایک واقعہ بھی مشہور ہے جب انہوں نے کراچی کے ہوٹل میٹروپول کے قریب زرداری کا دفاع کیا تھا جہاں دونوں خاندانوں کے نوجوانوں میں جھگڑا ہوا تھا۔

Agha Siraj Khan Durrani on X: "Happy Birthday to saviour of democracy,who  struggled alot to save democracy,he was tortured was kept in prison but he  continued his struggles for Progressive,Peaceful & Prosperous

آغا سراج نے 1993 کے انتخابات میں میر مرتضیٰ بھٹو کو شکست دی لیکن 1997 میں انہیں نادر خان کماریو سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ 1990 میں نواز شریف کی حکومت کے دوران مالی بے ضابطگی کے الزام میں قید بھی رہے جسے ان کی پارٹی نے سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔

Corruption reference against Durrani, others admitted for hearing -  Pakistan - DAWN.COM

وہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر بھی رہ چکے تھے۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر بن کر انہوں نے اپنے خاندان کی سیاست میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جہاں تین نسلوں کے افراد سندھ اسمبلی کی صدارت کر چکے ہیں۔

Related Posts