لاہور میں ریلی کے دوران جاں بحق پی ٹی آئی کارکن علی بلال کون تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

لاہور میں پولیس کی شیلنگ اور تشدد سے پاکستان تحریک انصاف کا کارکن علی بلال عرف ظل شاہ جاں بحق ہوگیا۔

پارٹی ترجمان کے مطابق پولیس تشدد کے باعث علی بلال اسپتال میں دم توڑگیا۔ علی بلال آج پی ٹی آئی کی ریلی میں شریک تھا۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس سے تصادم میں علی بلال کو سر پر ڈنڈے مارے گئے۔

خیال رہے کہ آج تحریک انصاف کے کارکنوں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریلی نکالنے کی کوشش کی۔ جس کے باعث پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں ہوئیں، جس سے ڈی ايس پی سميت کئی اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔ پوليس نے کارکنوں کومنتشر کرنےکےلئے شیلنگ کی اور واٹرکینن کا استعمال بھی کیا۔ کئی کارکنوں کوگرفتار کرلیا گیا۔

پی ٹی آئی کارکن علی بلال عرف ظل شاہ کی موت پر سوشل میڈیا پر شید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ علی بلال کو گرفتاری کے بعد دوران حراست قتل کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ علی بلال، جسے پیار سے ظلِّ شاہ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا، کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ تھانے منتقلی کے دوران وہ زندہ تھا۔ چنانچہ اسے پولیس کی حراست میں قتل کیا گیا۔ موجودہ سرکار اور پنجاب پولیس ایسی وحشت اور کُشت و خون پر آمادہ ہیں!

علی بلال کون تھا؟

علی بلال جو ظل شاہ کے نام سے بھی معروف تھا، پاکستان تحریک انصاف کا جوشیلا کارکن تھا۔ وہ کئی دنوں سے زمان پارک پر عمران خان کے گھر کے باہر ڈیرہ ڈالے ہوئے کارکنوں کے ساتھ پارٹی کی مختلف سرگرمیوں میں شامل رہتا تھا۔

علی بلال سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی متحرک تھا اور پارٹی بیانیے کو پھیلانے کیلئے دلچسپ اور مزاحیہ انداز اپنانے کے ساتھ مختلف فلم کیریکٹرز کی نقلیں کیا کرتا تھا اور کارکنوں میں بے حد مقبول تھا۔

علی بلال کی اس حادثاتی موت پر ان کے دوستوں اور پارٹی کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علی بلال کی موت کے حقائق سامنے لائے جائیں۔

Related Posts