کینیڈا میں مسلمان خاندان کیساتھ جو ہوا اس پر دل دکھی ہے کیونکہ انسان چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اس کا قتل نہایت قابل مذمت ہے۔کینیڈا میں ہونیوالے انسانیت سوز واقعہ کے بعد ایک بار پھر اسلامو فوبیا کا لفظ زیر گردش ہے اور ہر مسلمان اسلامو فوبیا کی دہائیاں دیتا دکھائی دیتا ہے۔
موجودہ حکومت سے پہلے اسلامو فوبیا کا اتنا چرچا کبھی نہیں رہا اور ایسا لگتا ہے کہ اسلامو فوبیا بھی این آر او نہیں دونگا کی طرح عمران خان کا تکیہ کلام بن چکا ہے۔
پاکستانیوں کے منہ سے اسلامو فوبیا کی بات سن کر ہمیشہ دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے، باہر ہونیوالے واقعات پر واویلہ مچانے والوں نے پاکستان میں اقلیتوں پر ہونیوالے انسانیت سوز مظالم پر کبھی دو لفظ بولنا بھی گوارا نہیں کیا کیونکہ یہاں مسلمان ظلم کرتے ہیں جو انکا ازلی حق سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بسنے والے مسیحی کسی حادثے یا تقسیم کی وجہ سے یہاں نہیں آئے بلکہ مقدس توما کے دورہ ہندوستان کے بعد یہ سرزمین مسیحیت سے روشناس ہوئی اور تصدیق کیلئے ٹیکسلا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
مسیحیوں نے قیام پاکستان میں بھرپور حصہ لیا لیکن اس کا صلہ یہ ملا کہ آج ہر سرکاری ادارے میں مسیحیوں کیلئے بطور خاص خاکروب کی اسامی رکھی جاتی ہے اور ان سے حلف بھی لیا جاتا ہے کہ وہ کسی صورت آگے بڑھنے کی جرات نہیں کرینگے۔یہ اسلامو فوبیا ہے۔
یہاں مسیحی کو چوڑا بھنگی اور طرح طرح کے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور منع کرنے پر چھریاں ماردی جاتی ہیں۔ کیا یہ اسلامو فوبیا نہیں ہے۔
پاکستان میں تعلیم اور صحت مسیحیوں کی مرہون منت ہے لیکن سازش کے تحت مسیحی تعلیمی اداروں پر قبضہ کیا گیا ابھی حال ہی میں ایڈورڈ کالج پر قبضہ پاکستان میں اسلامو فوبیا کی روشن مثال ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی منصف کا ذکر کیا جائے تو دور دور تک کوئی مسلمان نظر نہیں آتا پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پاکستانی منصفوں کیلئے جسٹس رابرٹ کارنیلس کا نام آتا ہے لیکن پاکستان نے مسیحیوں کی خدمات کا صلہ یہ دیا کہ اب کوئی مسیحی کسی اعلیٰ منصب پر فائز نہیں ہوسکتا۔ کیا اسلامو فوبیا نہیں ہے ؟۔
پاکستان میں جس کا دل چاہے وہ کسی بھی نوعمر مسیحی بچی کو اغواء کرے، عصمت دری کرے اور بعد میں زبردستی کلمہ پڑھا کر قانون کی آڑ لیکر دندناتا پھرے کیا یہ اسلامو فوبیا نہیں ہے۔
پاکستان میں جھوٹے الزامات لگاکر مسیحیوں کی بستیوں کی بستیاں جلادی جاتی ہیں۔ دکان پر سودا لینے کیلئے جانیوالے معصوم بچوں کو مار مار کر کلمہ پڑھنے پر مجبور کرنا کیا یہ اسلامو فوبیا نہیں ہے ؟۔
پاکستان میں مسیحیوں اور اقلیتوں پر جتنا ظلم ہوتا ہے اگر زیر قلم لایا جائے تو کشمیر اور فلسطین کی دہائیاں دینے والے بغلیں جھانکنے لگ جائینگے۔ کینیڈا کا پرچم ایک پاکستانی فیملی کے قتل پہ سر نگوں ہوا لیکن اگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پہ پاکستان میں بھی سر نگوں والی پریکٹس چل پڑے تو سال کے 365 دن ہمارا پرچم سرنگوں رہ سکتا ہے۔
دنیا میں اگر کوئی غیر انسانی واقعہ ہو تو ریاست اس کی مذمت اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہے لیکن یہاں باقاعدہ اسلامو فوبیا کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ منبر و محراب پر اقلیتوں کیخلاف اکسایا جاتا ہے اور ریاست بھی درسی کتب میں اقلیتوں کے ساتھ کافر لفظ لکھ کر اسلامو فوبیا کو تقویت دیتی ہے۔ یہ اسلامو فوبیا ہے۔
پاکستان میں بسنے والا کوئی مسیحی یہاں خوش نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں اسلامو فوبیا کی وجہ سے ہر مسیحی خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، پاکستان میں اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسیحیوں کی عزت جان یا مال کچھ محفوظ نہیں ہے۔
کینیڈا میں مسلمان خاندان پر حملہ قابل مذمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ مجرم کو سزاء دی جائے گی کیونکہ ہم نے نیوزی لینڈ میں بھی دیکھا کہ وہاں پر مسجد پر حملہ کرنیوالے کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا اور کیوی وزیراعظم کی انسان دوستی کو پوری دنیا نے سراہا جو مسیحیوں کا خاصہ ہے لیکن پاکستان میں جنونیوں نے شانتی نگر، رمپا پلازہ، گوجرہ سمیت ملک میں جگہ جگہ خون کی ہولی کھیلی لیکن ریاست سوئی رہی کیونکہ مسلمانوں کو کچھ بھی کرنے کا اختیار ہے۔ یہ اصلی اسلامو فوبیا ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کوقابو رکھنے کیلئے توہین مذہب کا قانون بناکر ایسا ظلم و بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے کہ انسانیت بھی شرمندہ ہے۔آپ کو جس کی بہن بیٹی کو اغوا کرنا ہو یا زمین پر قبضہ کرنے ہو یا کسی مسیحی سے کوئی ذاتی رنجش ہو اس پر جھوٹا الزام لگائیں اور منزل پائیں۔ یہ حقیقی اسلامو فوبیا ہے۔
پاکستان میں توہین مذہب کا قانون صرف اقلیتوں پر لاگو ہوتا ہے، باقی اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو پورا حق حاصل ہے کہ آپ مسیحی مقدس شخصیات کیلئے چاہے جیسی زبان استعمال کریں۔ مقدسات کی بے حرمتی کریں۔بائبل جلائیں یا چرچ ہی گرادیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ یہ اسلامو فوبیا ہے۔
مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ یورپ میں ہزار برائیوں اور اسلامو فوبیا کے باوجود ہر مسلمان وہاں بسنا کیوں چاہتا ہے؟، ہزاروں مسیحی اسلامو فوبیا کی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں اور لاکھوں تیار بیٹھے ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور ہمیں اس اسلامو فوبیا سے نکال کر انسانوں کے دیس میں لے جائے۔
اسلامو فوبیا یہ ہے کہ برطانیہ میں ٹرک ڈرائیور کا بیٹا مسلمان ہونے کے باوجود میئر بن جائے لیکن پاکستان میں کسی مسیحی کو کسی اہم منصب پر جانے کی اجازت نہیں اوراگر کوئی مسیحی مخصوص نشست پر بھی اسمبلی میں پہنچ جائے تو اسے خیراتی سیٹ کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ یہ بھی اسلامو فوبیا ہے۔
اسلامو فوبیا کا ڈھول پیٹنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے ادیار میں ظلم سہنے والوں کو مغرب نے ہمیشہ انسانیت کے ناطے پناہ دی اور آج دنیا ہمیں غیر انسانی معاشرہ قرار دیکر پابندیاں لگانے کے درپہ ہے اور ہم اسلامو فوبیا کا راگ الاپ رہے ہیں۔
مسلمان ہوں یا کوئی بھی مذہب اس کے ماننے والوں پر تشدد کی اجازت کسی کو نہیں ہے لیکن دوسرے کے گھر میں اڑتی چنگاری پر واویلہ کرنے والے اپنے گھر میں لگی آگ پر بھی دھیان دیں شائد اسلامو فوبیا کی کڑی آپ کو اپنے گھر سے مل جائے۔