اسرائیل کی جانب سے حماس کے سربراہ یحیی السنوار کے بعد اب یہ بنیادی سوال سامنے آ رہا ہے کہ تنظیم کی سربراہی کے لیے السنوار کا جانشیں کون ہوگا؟
السنوار کی موت نے مجموعی حیثیت سے حماس کے مستقبل اور غزہ کی جنگ کے انجام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ العربیہ کے مطابق یحیی السنوار حماس کے طاقتور ترین شخص اور سات اکتوبر کے حملے کے منصوبہ ساز تھے۔ السنوار کی موت نے حماس میں ایسا خلا چھوڑا ہے جس کا بھرنا آسان نہیں ہوگا۔
ایسے میں درج ذیل پانچ ٹاپ کے رہنما ہیں جو السنوار کی جانشینی کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
خليل الحيہ
السنوار کی جاں نشینی کے لیے نمایاں ترین ناموں میں خلیل الحیہ کا نام شامل ہے جو حماس کے سیاسی دفتر میں السنوار کے نائب کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
الحیہ اس وقت بین الاقوامی وساطت سے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں حماس کے وفد کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح وہ بیرون ملک حماس کے اتحادیوں کے ساتھ سرکاری ملاقاتوں کا انتظام بھی کرتے ہیں۔
خالد مشعل
السنوار کے ممکنہ جانشینوں میں خالد مشعل کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ وہ اس وقت بیرون ملک حماس کے سربراہ کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔
خالد مشعل 1996 سے 2017 تک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
موسى ابو مرزوق
السنوار کے ممکنہ جانشینوں کی فہرست میں موسی ابو مرزوق کا نام بھی ہے۔ بالخصوص جب کہ وہ 1992 سے 1996 تک حماس کے سیاسی دفتر کے پہلے سربراہ رہ چکے ہیں۔
موسی ابومرزوق تنظیم کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کی قریب ترین شخصیت ہیں۔ ابو مرزوق حماس کے نمایاں ترین ذمے دار شمار ہوتے ہیں۔
زاہر جبارین
زاہر جبارین مغربی کنارے میں حماس کے سربراہ ہیں۔ وہ آئندہ عرصے میں السنوار کی جگہ تنظیم کی سربراہی کر سکتے ہیں۔ جبارین 2021 میں مغربی کنارے میں حماس کے سربراہ صالح العاروری کے نائب منتخب ہوئے تھے۔ بیروت میں العاروری کی شہادت کے بعد زاہر جبارین مغربی کنارے میں حماس کے قائمقام سربراہ بن گئے۔
محمد اسماعيل درويش
السنوار کے ممکنہ جانشینوں میں محمد اسماعیل درویش کا نام بھی شامل ہے۔ وہ تنظیم کی مجلس شوری کے سربراہ ہیں اور حماس کے اندر ایک نمایاں شخصیت شمار کیے جاتے ہیں۔
ان کے ایران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ مبصرین کے مطابق تہران میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد درویش حماس کی سربراہی کے مضبوط امیدوار تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








