خواتین اسٹاف کو عبایا کیوں پہنایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے لبرل سینیٹرز کی بینکوں پر تنقید، عبایا غیرملکی لباس قرار

تازہ ترین

تازہ ترین

فاروق نائیک اور زرقا تیمور، فائل فوٹو

سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے لیڈیز اسٹاف کو سعودی طرز کے عبایا پہنانے کی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سینیٹرز نے اسٹیٹ بینک سے وضاحت طلب کر لی۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے کہا کہ اگر خواتین پر زبردستی شلوار قمیض، دوپٹہ یا چادر لازمی کی جارہی ہے تو پھر مردوں پر بھی اسی طرح ٹوپی پہننے کی پابندی عائد کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین نسبتاً کمزور پوزیشن میں ہوتی ہیں، اس لیے ان پر سعودی عرب کا ڈریس کوڈ مسلط کر دینا نامناسب ہے۔ ہمارا اپنا کلچر، ڈریس اور روایات نہایت خوبصورت ہیں، پھر بیرونی لباس کو اداروں میں کیوں نافذ کیا جا رہا ہے؟

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بھی اس پالیسی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی شلوار قمیض اور دوپٹہ دنیا کے خوبصورت ترین ملبوسات میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ اداروں کو مجبور کرنے کے بجائے اپنے اسٹاف کو باوقار اور ’’modest‘‘ لباس پہننے کی آزادی دے، نہ کہ یکطرفہ طور پر عبایا لازم قرار دیا جائے۔

Related Posts