پاکستان کا شمار گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک کے کئی شہروں میں گرمی کا درجہ حرارت کراچی سے بھی زیادہ ہوتا ہے، جہاں دن اور رات شدید حد تک گرم رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود زیادہ اموات صرف شہر قائد میں رپورٹ ہوتی ہیں۔
کراچی میں گزشتہ کئی برسوں سے ہیٹ ویو کی شدید لہریں سینکڑوں جانیں لے چکی ہیں، اور حالیہ بار بھی گرمی نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ کراچی کی مخصوص آب و ہوا ہے۔ شہر میں گرمی کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے، جو اکثر ستر سے اسی فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں پسینہ بخارات بن کر جسم سے باہر نہیں نکل پاتا، جس کے باعث جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے اور انسانی نظامِ جسمانی توازن بگڑ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی نمی والی گرمی (Humidity) کراچی کی ہیٹ ویو کو زیادہ خطرناک اور جان لیوا بنا دیتی ہے، جبکہ دیگر شہروں میں اگرچہ درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے لیکن نمی کم ہونے کی وجہ سے گرمی نسبتاً کم نقصان دہ ہوتی ہے۔
ماہر ماحولیات ڈاکٹر فاطمی کے مطابق شدید گرمی انسانی جسم پر سنگین اثرات ڈالتی ہے، خصوصاً دل، گردوں اور اعصابی نظام پر اس کے منفی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہیٹ ویو کا سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کو ہوتا ہے، جن کی جسمانی قوتِ برداشت کم ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں سب سے خطرناک ہیٹ ویو 2015 میں آئی تھی، جس میں چند ہی دنوں کے دوران سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں بھی ہیٹ ویو کے باعث درجنوں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں ایک اور شدید لہر کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








