اسلام آباد ڈپلومیسی کیوں ناکام ہوئی؟ جانیے پردے کے پیچھے کی اصل داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر رہی ہے کہ خطے میں سفارتی عمل کس قدر غیر یقینی اور نازک بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کئی دنوں کی قیاس آرائیوں اور متضاد اطلاعات کے بعد امریکہ اور ایران کا اسلام آباد میں مجوزہ امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اس پورے عمل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب فریقین کی ممکنہ آمد اور کسی بڑی سفارتی پیش رفت کی توقعات خاصی بڑھ چکی تھیں۔

پاکستان کی جانب سے اس ممکنہ مذاکراتی مرحلے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی تھیں جن میں انتظامی اور سفارتی دونوں سطحوں پر پیشگی اقدامات شامل تھے تاہم اچانک صورتحال تبدیل ہونے سے نہ صرف یہ تیارییں غیر مؤثر ہو گئیں بلکہ یہ بھی واضح ہوا کہ بین الاقوامی سفارت کاری میں غیر متوقع تبدیلیاں کس حد تک منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع پر آمادگی ظاہر کی۔ ان کے مطابق پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے عمل کی حمایت کرتا رہا ہے اور امید ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی جامع امن معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جنہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی تاہم فی الحال مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایرانی قیادت کسی مشترکہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ پاکستان کی قیادت کی درخواست اس فیصلے میں ایک اہم عنصر رہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ اعلانات ان ابتدائی رپورٹس کے برعکس ہیں جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں بیک وقت مذاکرات کے لیے پہنچیں گے۔ اس امکان کے پیش نظر نہ صرف اعلیٰ سطحی انتظامات کیے گئے تھے بلکہ سکیورٹی اور لاجسٹکس کی سطح پر بھی غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے جو اب غیر ضروری ثابت ہوئے ہیں۔

سفارتی تجزیہ کار اس صورتحال کو وقتی نرمی ضرور قرار دیتے ہیں تاہم ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ جنگ بندی میں توسیع کشیدگی کو وقتی طور پر کم کر سکتی ہے مگر اعتماد کے فقدان اور دیرینہ تنازعات کا حل ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔

اسی تناظر میں آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی بھی ایک اہم غیر حل شدہ مسئلہ ہے جو نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا ثالثی کردار اگرچہ اہمیت رکھتا ہے لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ فریقین کے درمیان گہری بداعتمادی اور پیچیدہ جغرافیائی سیاسی عوامل اس عمل کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔

Related Posts