نئی دہلی: بھارت میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا ملک گیر احتجاج جاری ہے تاہم اس دوران ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے پتلے نذرِ آتش کیے جارہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانہ کی کسانوں کی دہلی چلو تحریک ملتوی کیے جانے کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ شمبھو اور کھنوری سرحدوں پر ڈبلیو ٹی او کا پتلا نذرِ آتش کردیا گیا جس کی اونچائی 20 فٹ تھی۔
پتلا نذرِ آتش
جب کسانوں نے 20 فٹ اونچے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے پتلے کو آگ لگائی تو بڑی تعداد میں بچے اور خواتین بھی یہ نظارہ دیکھنے کیلئے موجود تھے۔ اس دوران مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی ہوئی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پتلا نذرِ آتش کرنے کے بعد احتجاج کرنے والے کسانوں نے ٹریکٹر مارچ بھی نکالا۔ ترجمان کسان تحریک سرون سنگھ پندھیر کا کہنا ہے کہ کسان بھارت کی 13ریاستوں اور 70 ہزار گاؤں میں پتلے جلانے کا پروگرام طے کرچکے ہیں۔
کسانوں کے مطالبات
احتجاج کرنے والے کسانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ایم ایس پی (کم از کم سپورٹ پرائس) قانون بننتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسان مزدوروں کا قرض ختم کیا جائے۔ ہم پر لگائے گئے الزامات اور کیسز واپس لیے جائیں۔ آلودگی کے مسئلے سے زراعت اور ڈبلیو ٹی او سے بھارت کو باہر نکالا جائے۔
اگر مودی حکومت نے کسانوں کے مطالبات منظور نہ کیے تو کسان نہ صرف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے بلکہ یہ احتجاج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی موجودہ بلکہ آئندہ حکومت کیلئے بھی مشکلات پیدا کرتا رہے گا۔
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا مسئلہ
احتجاج کرنے والے کسانوں کا ماننا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے بھارت کے ساتھ زراعت کے شعبے میں ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت زراعت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس لیے مودی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ زراعت کو معاہدوں سے فوری خارج کرے۔
اس دوران بھارتی کسان نہ صرف ڈبلیو ٹی او کے پتلے جلا رہے ہیں اور ٹریکٹر مارچ کر رہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ گھریلو پروڈکٹس یعنی زراعت سے اگائی گئی فصلوں کو اہمیت دی جائے۔ دراصل سبسڈی دینے کے معاملے میں زرعی شعبے اور ڈبلیو ٹی او کے مابین تنازعہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
مظاہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت کم از کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کا نفاذ عمل میں لانا چاہتا ہے تو اسے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے چنگل سے نکلنا ہوگا تاکہ کسانوں کو ایک قانونی گارنٹی دی جاسکے کہ ان کا اور شعبۂ زراعت کا آنے والا مستقبل مزید معاشی مشکلات سے آزاد ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








