نئی دہلی: اپوزیشن جماعت کانگریس کی ترجمان روشنی جیسوال کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر نریندر مودی کی تصویر دیکھتے ہی 95فیصد بھارتی شہری چینل بدل دیتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے ویڈیو بیان میں کانگریس رہنما روشنی کشل جیسوال نے کہا کہ آج کے تازہ سروے کے مطابق ٹی وی پر صاحب(نریندر مودی) کی تصویر دیکھتے ہی 95 فیصد لوگ چینل بدل دیتے ہیں۔ کیا آپ بھی ان میں سے ایک ہیں؟
ताज़ा सर्वे के अनुसार साहब की फ़ोटो TV पर देखते ही 95% लोग चैनल बदल देते हैं pic.twitter.com/nvRLOQczzF
— Roshni kushal jaiswal (@roshnikushal) February 27, 2024
کانگریس رہنما روشنی جیسوال کی ہی شیئر کی گئی ایک اور ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کیوں کم ہورہی ہے؟ ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی عوام دشمن پالیسیاں ہی آہستہ آہستہ اس کی مقبولیت کم کرتی جارہی ہیں۔
بھارت میں کسانوں کا مودی حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے اور احتجاج کو بزورِ طاقت روندھا ہمیشہ سے نریندر مودی حکومت کی پالیسی رہی ہے، جس پر بھارت نواز میڈیا کی جانب سے شاید ہی کبھی آواز اٹھائی جاتی ہو، تاہم سوشل میڈیا پر جاری بیانات سے مودی کی مقبولیت کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔
رہنما اپوزیشن پارٹی روشنی کشل کی شیئر کی گئی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اگر سکھ حکومت کے خلاف مزاحمت یا احتجاج کرے تو وہ خالصتانی قرار دیا جاتا ہے۔ اگر مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہ دیں تو وہ پاکستانی یا پھر روہنگیا قرار دئیے جاتے ہیں۔
— Roshni kushal jaiswal (@roshnikushal) February 27, 2024
اگر بنگالی بولنے والے بھارتی شہری حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف مزاحمت یا احتجاج کریں تو انہیں بنگلہ دیشی کہا جاتا ہے۔ منی پور میں احتجاج ہو تو مظاہرین کا تعلق میانمار سے جوڑا جاتا ہے اور اگر نارتھ میں کوئی احتجاج کرے تو وہ ملک کا غدار قرار دیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








