پاکستان میں سونا کیوں مسلسل مہنگا ہو رہا ہے؟ پس پردہ کہانی سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

پاکستان میں سونے کی قدر و قیمت جس بڑے پیمانے پر مسلسل بڑھ رہی ہے، اس نے لوگوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیے ہیں، ایک رپورٹ میں جنوری سے ستمبر کے دوران قیمت میں ہونے والے اضافے پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان کیا رنگ لا سکتا ہے۔

آل پاکستان جمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق نو ماہ کے عرصے میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔ دسمبر 2024 میں سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 72 ہزار 600 روپے تھی، جو ستمبر 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 4 لاکھ 6 ہزار 778 روپے تک جا پہنچی۔

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 1 لاکھ 15 ہزار 35 روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ سال کے آغاز میں 2 لاکھ 33 ہزار 711 روپے تھی، جو ستمبر 2025 میں بڑھ کر 3 لاکھ 48 ہزار 746 روپے تک جا پہنچی۔ عالمی منڈی میں بھی جنوری سے ستمبر تک فی اونس سونے کی قیمت میں 1,241 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سونے کی قیمت میں اضافے کا راز

سونا، جو صدیوں سے دولت اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے، محض زیورات کی زینت نہیں بلکہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ معاشی غیر یقینی صورت حال، جغرافیائی کشیدگی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں کے لیے یہ ہمیشہ ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوا ہے۔

حالیہ برسوں میں بھی سونے کی حیثیت ایک “سیف ہیون ایسٹ” (Safe Haven Asset) کے طور پر دوبارہ مستحکم ہوئی ہے، کیونکہ سرمایہ کار دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی و معاشی بے یقینی سے بچاؤ کے لیے اس کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

یہ رجحان صرف بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سرمایہ کار بھی اپنی دولت کو مارکیٹ کے جھٹکوں اور غیر یقینی معاشی حالات سے محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی خریداری کی طرف مائل ہیں۔

آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز اور گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عام افراد کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، جس سے اس کی طلب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Related Posts