پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ کسی بھی سیاسی احتجاج میں کیوں شامل نہیں ہوسکتے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ پارلیمنٹ کسی بھی سیاسی احتجاج میں شریک نہیں ہوسکتے، پارٹی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے اراکینِ پارلیمنٹ (اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز) کو احتجاج میں شمولیت سے روک دیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

پارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ حالیہ دنوں کے دوران ملک بھر میں کسی بھی مظاہرے یا جلسے کا حکم نہیں بن سکتے۔ نوٹیفکیشن کا اطلاق غیر معینہ مدت تک کیلئے ہے جو تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گا۔

اراکین کو کیا خطرہ ہے؟

دراصل تحریکِ انصاف کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ وفاقی حکومت کہیں اراکینِ پارلیمنٹ کی مدد سے آئینی ترامیم میں کامیابی نہ حاصل کرلے جس پر پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے کروڑوں کی رشوت دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں اسپیکر قومی اسمبلی کا کردار ادا کرنے والے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ آئینی ترامیم کیلئے ہمارے اراکینِ پارلیمنٹ کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اپنے حالیہ بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو 12 کروڑ روپے کی پیشکش کی جاچکی ہے۔ وانا کے رکنِ اسمبلی کو بھی خریدنے کیلئے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہم جلد بازی میں حکومت کو کوئی بھی ترمیم کرنے نہیں دیں گے۔

Related Posts