حال ہی میں وینزویلا کے صدر کو جنگی قیدی بنا کر نیو یارک پہنچانے والے امریکی صدر کو وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو نے اپنا نوبل انعام پیش کردیا جسے ٹرمپ نے اپنے پاس حفاظت سے رکھ لیا۔
تفصیلات کے مطابق وینزویلا کی رہنما ماریہ کورینا ماچادو نے یہ تمغہ امریکی ایوانِ صدر وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونڈ ٹرمپ کو علامتی اظہارِ احترام کی صورت میں پیش کیا جسے صدر ٹرمپ نے قبول کیا، جبکہ نوبل امن انعام کا یہ واضح اصول ہے کہ اسے کسی اور فرد کو منتقل نہیں کیاجاسکتا۔
تاہم وینزویلا کی اپوزیشن رہنما نے امریکی صدر کے ساتھ مل کر نوبل امن انعام کے اس اصول کی دھجیاں بکھیر دیں۔ ابھی گزشتہ برس 2025 میں ہی جمہوری حقوق اور آمریت کے خلاف جدجہد کے اعتراف میں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا ماچادو کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔
دلچسپ طور پر دنیا بھر میں متعدد جنگیں رکوانے کا دعویٰ کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کا حقدار نہیں سمجھا گیا تاہم صدر ٹرمپ نے مایہ کورینا ماچادو کے اقدام کو باہمی احترام کا اشارہ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی جبکہ ناروے کا نوبل انسٹیٹیوٹ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ امن انعام منتقل نہیں کیاجاسکتا، انعام کا ٹائٹل اور فیصلہ ناقابلِ انتقال ہوتا ہے۔
🚨 BREAKING: In an incredible moment, President Trump has been awarded the NOBEL PEACE PRIZE medal from Venezuelan opposition leader Maria Corina Machado in the Oval Office
The photo was taken underneath George Washington’s portrait – Machado says 200 years ago, Gen. Lafayette… pic.twitter.com/CG73VGjutf
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) January 16, 2026
تاہم ماریہ کورینہ ماچادو کے اس اقدام کو نہ صرف باہمی احترام کا شاندار اشارہ قرار دیا گیا بلکہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کی تعریف کرتے ہوئے سوشل میڈیا پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماریہ نے مجھے میرے کیے گئے کام کے اعتراف میں نوبل امن انعام پیش کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ماریہ کورینا ماچادو نے خود کو نوبل انعام دینے والی کمیٹی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو نوبل انعام کا مستحق پہلے ہی قرار دے لیا ہے اور دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر ہونے کے ناطے اب نوبل کمیٹی ان سے یہ اعزاز چھین نہیں سکے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








