رحمت للعالمین ﷺاتھارٹی کا چیئرمین کیوں ہٹایاگیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی:حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رحمت للعالمین اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز اکرم کو ہٹا کر ان کی جگہ پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کو اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔وزیر اعظم ہاؤس سے رحمت للعالمینﷺ اتھارٹی کے چیئر مین کیلیے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا۔

اس تعیناتی سے تین روز قبل رحمت للعالمینﷺ اتھارٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹراعجاز اکرم نے استعفیٰ دیا تھا،ڈاکٹر اعجاز اکرم کا استعفیٰ فی الفور قبول کرلیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر اعجاز اکرم اتھارٹی نے اپنے قریبی و جاننے والے پروفیسرز کو اتھارٹی میں شامل کیا جب کہ سیرت پر کام کرنے والے اہل افراد کو شامل کرنے سے گریز کیا، جس کے لئے انہوں نے سب سے پہلے ڈاکٹر باسط کوشل اور ڈاکٹر عائشہ لغاری کو ممبر بنوایا تھا،اس کے بعد ڈاکٹر الیاس کو شامل کیاتھا۔

ڈاکٹر اعجاز اکرم دسمبر 2021کو اتھارٹی کے سربراہ مقرر ہوئے تھے، تاہم ڈاکٹر اعجازاکرم نے تین ماہ تک کوئی کام نہیں کیا،جب کہ اتھارٹی کی وجہ سے سرکاری گاڑی کا استعمال کرتے رہے، اور وزیراعظم ہاؤس کے گھر میں رہتے ہوئے ماہانہ 5 لاکھ سے زائد تنخواہ اور 1 لاکھ ہاؤس رینٹ بھی وصول کرتے رہے ہیں، جس کے باوجود تین ماہ میں ان کی کوئی کارکردگی سامنے نہیں آئی، جب کہ ان کی دلچسپی سے بننے والے دو ممبران ڈاکٹر باسط کوشل اور ڈاکٹر عائشہ لغاری نے بھی کوئی خاطر خواہ کام انجام نہیں دیا ہے۔

اتھارٹی کے قیام کے دو ماہ بعد وفاقی وزارت تعلیم کی سمری کے بعد وزیر اعظم سے مزید افراد کو اتھارٹی کا ممبر بنوا یا گیا تھا،جس پر ڈاکٹر اعجاز اکرم نے نئے2 اراکین کی تقرری کو قبول کرنے سے انکار کردیاتھا اور استعفیٰ دے دیا،جس کا مقصدڈائریکٹر جنرل کو یہ ظاہر کرانا تھا کہ جب تک وزیراعظم حالیہ دو منتخب ہونے والے افراد کے آرڈر واپس نہیں کرتے اور میرے دیئے گئے 2 لوگوں کوشامل نہیں کیا جاتا تب تک میں کسی بھی قسم کا اجلاس نہیں بلاؤں گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال میں تعینات ہونی والی رحمت للعالمین اتھارٹی کی نئی ڈائریکٹر جنرل سمرین زہرہ، وزارت تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری معین الدین وانی،وفاقی سیکرٹری تعلیم ناہید درانی اور وفاقی وزیر تعلیم کے علاوہ سیکرٹری اعظم خان کو بھی در پردہ چیلنج کردیا تھا، جس کی وجہ سے استعفیٰ منظورکیا گیا اور تین روز کے اندر پراسس مکمل کرکے اتھارٹی کاچیئرمین ڈاکٹر انیس احمد کو بنا دیا گیا تھا، ادھر اب اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر اعجاز اکرم کے لگائے گئے دو سفارشی ممبران ڈاکٹر عائشہ لغاری اور ڈاکٹر باسط کوشل کی بھی رکنیت ختم کی جاسکتی ہے،جنہوں نے وزیر اعظم کو سب اچھے کی رپورٹ دی تھی۔

ڈاکٹر انیس احمد نے سندھ مدرسۃ الاسلام سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد سندھ مسلم کالج کو جوائن کیا، اس کے بعد انہوں نے جامعہ کراچی کے تاریخ اسلامی کے شعبہ سے ایم اے فرسٹ ڈویژن میں کیا، وہ اسٹوڈنٹ یونین میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں اور اسلامی تاریخ سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری بھی رہے، وہ ماسٹر کرنے کے بعد 1963میں جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ اسلامی میں لیکچرر بھی رہے ہیں، ڈاکٹرانیس احمد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے فکلیٹی برائے اصول الدعوۃ والدین اور سوشل سائنسز کے پہلے بانی ڈین اور میری ٹوریس پروفیسر رہے ہیں اور بین الاقوامی یونیورسٹی ”الرفاہ“ کے وائس چانسلر ہیں۔

حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے رحمت للعالمین اتھارٹی میں دیگر شعبہ جات کی طرح نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو)سے ممبران لئے گئے، تاہم بعض ممبران سفارش پر بھرتی کئے گئے ہیں،جن میں قطر یونیورسٹی سے ڈاکٹر باسط کوشل اور ڈاکٹر مدثر علی شامل ہیں جو تاحال پاکستان آئے ہی نہیں ہیں نہ ہی کوئی پرکارکردگی دکھا ئی ہے۔

ادھر رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے نام،آپ ﷺکے اسم گرامی پر بننے والی اتھارٹی میں پاکستان میں  سب سے زیادہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم پر کام کرنے والے سیرت نگاروں کو شامل ہی نہیں کیا گیا ہے، جن میں کئی علمائے کرام کا سیرت پر معیاری کام ہے جب کہ سیرت پرسندھ کی بڑی لائبریری پروفیسر گل محمد شاہ بخاری شہداد کوٹ میں ہے۔

مزید پڑھیں: جامعہ ہری پور میں کشمیر کی طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی، انکوائری کیوں مکمل نہ ہوئی؟

واضح رہے کہ رحمت للعالمین اتھارٹی کے رولز بھی بنائے گئے ہیں جن کی سمری منظوری کے لئے وفاقی کیبنٹ ڈویژن کو بھیجی گئی ہے جس کے بعد ہر تین ماہ بعد اتھارٹی کا اجلاس ہو گا جس میں کانفرنسز، نصاب میں تبدیلی و دیگر کو ڈسکس کیا جائے گا۔

Related Posts