جنگلی حیات کا تحفظ اور سماجی ذمہ داری

تازہ ترین

تازہ ترین

Wildlife Conservation and Social Responsibility

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنگلی حیات کا عالمی دن منایا جارہا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگلی حیات کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہیں اور قدرت کی اس تخلیق کا تحفظ ہم سب کا فرض ہے تاہم بھی ایک تلخ سچائی ہے کہ دنیا میں جنگلی حیات کم ہوتی جارہی ہیں ۔سائنس دانوں کاکہناہے کہ دنیا میں بڑے جنگلی جانوروں کی آبادی کم ہو رہی ہے جس سے خطہ ارض ’خالی ہوجانے‘ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

یوں تو پوری دنیا میں  بیشمار تنظیمیں جنگلی حیات کے بچاؤ اور تحفظ کیلئے کام کررہی ہیں لیکن اس کے باوجود نایاب پرندوں اور جانوروں کی تعداد بتدریج کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔جنگلی حیات کو بچانے اور افرائش نسل کیلئے حکومتوں اور اداروں کی طرف سے اقدامات کے باوجود نایاب پرندوں کا شکار کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا جس کی وجہ سے جنگلی حیات پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔

عالمی دن کا مقصد
جنگلی حیات کے تحفظ کی داعی کولین پائیج نے 2005 میں وائلڈ لائف ڈے کی بنیاد رکھی۔ ہر سال 4 ستمبر کو عالمی سطح پر وائلڈ لائف ڈے یعنی جنگلی حیات کا دن منانے کا مقصد ہمارے آس پاس اور دنیا بھرمیں موجود جنگلی حیات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے،اس دن دنیا بھر کی توجہ معدومی کا شکار ہونیوالی جنگلی حیات کے تحفظ اور بقاء کی طرف مبذول کروائی جاتی ہے۔

جنگلی حیات صرف جنگل تک محدود نہیں بلکہ ہمارے آس پاس ہمارے معاشرے میں ہمارے قریب موجود ہے، مختلف جانور اور پرندے ہمیں وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں، زمین، آسمان اور سمندر میں موجود آبی حیات انسان کی توجہ کی متقاضی ہیں۔

جنگلی حیات کا تحفظ 
انسان کی طرح جانور اور چرند پرند اور تمام جنگلی حیات کو زندہ رہنے کیلئے گھر اور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے، ماحول کو انسان دوست بنانے میں جنگلی حیات کا بھی بڑا کردار ہے لیکن موجودہ دور میں انسان تیزی کے ساتھ جنگلی حیات پر اثر انداز ہورہے ہیں جس کی وجہ سے کئی نایاب جانوروں کی نسلیں معدوم ہوچکی ہیں۔

جانور نہ صرف ماحولیات کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ قدرتی خوبصورتی کو بھی نمایاں کرتے ہیں، آج دنیا بھر میں نایاب پرندوں اور جانوروں کو بچانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

نایاب جانوروں  کا شکار
ہر سال سیکڑوں یاہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں جنگلی جانوروں کو غیر قانونی شکار کے ذریعے ختم کردیا جاتا ہے ، پاکستان میں کالا وسر مئی بڑا تیتر، نیل گائے، پاڑ ،دلدلی ہرن ،مرغابی، کوئل، بٹیر، چکور، کونج اور دیگر جانوروں اور پرندوں  کا شکار بھی عام ہے ۔

جنگلی جانوروں  کے بچاؤ اور افزائش نسل کیلئے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے اس کے باوجود غیر قانونی شکار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ غیر قانونی شکار، اسمگلنگ اور آگاہی نا ہونے کی وجہ سے پاکستان میں جنگلی حیات کو بہت سے خطرات درپیش ہیں اورمختلف اقسام کے جانوروں کی نسلیں ناپید ہونے کو ہیں۔

سماجی ذمہ داری
جنگلی حیات کا تحفظ صرف حکومت یا متعلقہ اداروں کی نہیں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے،عوام کی شمولیت اورمدد کے بغیر جنگلی حیات کے تحفظ کا کام نہیں کیاجاسکتا۔ہمیں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔

علماء کرام مذہب کی روشنی میں ماحول اور جنگلی حیات کی اہمیت سے متعلق لوگوں کو شعور فراہم کریں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں آگاہی کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے اور اب عوام کو جنگلی حیات پر جاری ظلم کو روکنے میں متعلقہ اداروں کا ساتھ دیناہوگاتاکہ قدرت کی اس تخلیق کا تحفظ یقینی بناکر ماحول کو بچایا جاسکے۔

Related Posts