وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ شہبازگل کی گرفتاری اغواء نہیں بلکہ شکایت پر مقدمہ درج ہوا ہے۔ شہباز گل کو عدالت میں پیش کرینگے، فیصلہ عدالت کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چاہتا تو شہباز گل کی گاڑی سے ہیروئن برآمد ہوسکتی تھی، لیکن ایسی شرمناک حرکت ہم نہیں کریں گے۔
راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کی رائے ہے کہ جرم سرزد ہوئے ہیں اسی لیے پولیس نے شہباز گل کو گرفتار کیا ہے اور تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،آزادانہ تحقیقات ہونگی، تفتیش میں تعین ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایک نجی چینل کے ساتھ ملکر باقاعدہ سازش کی گئی اور شہباز گل نے طے شدہ پروگرام کے مطابق نجی چینل پر بیانیہ پڑھ کر سنایا۔
راناثناء اللہ کا کہنا تھا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہداء سے متعلق منفی مہم چلائی گئی، عمران خان نوجوان نسل کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، سازش کے تحت ایک بیانیہ بنایا گیا جو اسکرپٹڈ تھا۔
انہوں نے کہا کہ توہین آمیز ٹوئٹ کرنے میں پی ٹی آئی کا ہاتھ تھا، ٹوئٹ کرنے والے زیادہ تر لوگ معافی تلافی کی طرف جارہے ہیں، شہباز گل کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ بھی دیکھا جائے گا۔ یہ بڑی سنگین غلطی کربیٹھے ہیں۔
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ مجھے پنجاب میں کسی پروٹوکول کی ضرورت نہیں، کوئی صوبہ بغیر اجازت اسلام آباد میں پولیس نہیں بھیج سکتا۔