مصنوعی ذہانت سے نوکریاں ختم؟ سیم آلٹمین کی بڑی پیشگوئی غلط نکل آئی

تازہ ترین

تازہ ترین

ChatGPT owner OpenAI signs $38bn cloud computing deal with Amazon
ONLINE

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا کے درمیان اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ملازمتوں پر اے آئی کے اثرات کے بارے میں اپنی بعض پیشگوئیوں میں غلط ثابت ہوئے تاہم انہوں نے یہ امکان مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت روزگار کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیم آلٹمین نے کہا کہ 2022 میں چیٹ جی پی ٹی متعارف کرواتے وقت اوپن اے آئی نے ٹیکنالوجی کی ترقی سے متعلق جو اندازے لگائے تھے وہ بڑی حد تک درست ثابت ہوئے لیکن سماجی اور معاشی اثرات کے حوالے سے ان کی پیشگوئیاں حقیقت سے مختلف نکلیں۔

انہوں نے ماضی میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ملازمتوں میں تبدیلی کی رفتار غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق عام طور پر 75 برس میں تقریباً نصف نوکریاں تبدیل ہوتی ہیں مگر اے آئی اس عمل کو بہت کم عرصے میں ممکن بنا سکتی ہے۔

سیم آلٹمین نے اس سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ سب سے پہلے کسٹمر سپورٹ اور کال سینٹر جیسی ملازمتیں متاثر ہوں گی اور فون یا کمپیوٹر کے ذریعے خدمات انجام دینے والے بہت سے افراد اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی یہ پیشگوئی مکمل طور پر درست ثابت نہیں ہوئی۔ ان کے بقول وہ سمجھتے تھے کہ اب تک ابتدائی سطح کی دفتری ملازمتوں پر اے آئی کا کہیں زیادہ اثر پڑ چکا ہوگا، مگر حقیقت میں ایسا کم دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب انہیں بہتر اندازہ ہو گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا اور اس معاملے میں ان کا ابتدائی اندازہ درست نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض لوگوں نے انہیں خوف پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا لیکن اس وقت انہیں واقعی محسوس ہوتا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے اور ممکن ہے مستقبل میں اب بھی ایسا ہو۔

دوسری جانب کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت پر زیادہ توجہ دینے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہیں۔ گزشتہ ہفتے میٹا سمیت مختلف اداروں نے ملازمتوں میں کمی کی اطلاعات جاری کیں۔

اسی طرح مئی میں سسکو نے تقریباً چار ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کی تصدیق کی تھی۔ کمپنی کے سربراہ چک رابنز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اے آئی کے دور میں وہی کمپنیاں کامیاب ہوں گی جو تیزی سے فیصلے کریں اور سرمایہ کاری کو اُن شعبوں کی جانب منتقل کریں جہاں مستقبل میں زیادہ مواقع موجود ہوں۔

ٹیکنالوجی تحقیقاتی ادارے گارٹنر کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ 80 فیصد اعلیٰ افسران نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اے آئی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کی لیکن اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارے ملازمین کو اے آئی ٹولز فراہم کر کے زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ انہیں نوکریوں سے نکالا جائے۔

سیم آلٹمین نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ملازمتوں میں انسانی پہلو اب بھی انتہائی اہم ہے اور اسے مکمل طور پر مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک وقت میں انہوں نے اپنی ای میلز اور پیغامات کے جواب دینے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا یہاں تک کہ پیغامات میں یہ سیم کی اے آئی ہے لکھا جاتا تھا مگر بعد میں انہوں نے بعض جوابات خود دینا دوبارہ شروع کر دیے کیونکہ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ لوگ انسانی رابطے اور توجہ کو واقعی اہم سمجھتے ہیں۔

Related Posts