سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے معزولی کے بعد ملک بھر میں جلسوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ پشاور اور کراچی کے بعد کل لاہور میں بھی ایک بڑا جلسہ کیا گیا جس کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ کیا عمران خان نئے انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں؟۔
آیئے عمران خان کی حکومت کے چند اہم اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران کے دور حکومت میں
بیرونی قرض: 2018 میں 90 ارب ڈالر 2022 میں 131 ارب ڈالر
اندرونی قرض: 2018 میں 1اعشاریہ1 ٹرلین روپے 2022 میں 4اعشاریہ5 ٹرلین روپے
ایکسچینج ریٹ: 2018 میں 125 روپے 2022 میں 186 روپے
کرپشن انڈیکس: 2018 میں 117 نمبر 2022 میں 147 نمبر
اکنامک گروتھ ریٹ: 2018 میں 5اعشاریہ53فیصد 2022 میں صفراعشاریہ04فیصد
جرائم کی شرح: 2018 کل رجسٹرڈ جرائم 703481 2021 میں ان جرائم میں %57 اضافہ ہوا
افراط زر کی شرح: 2018 میں 3اعشاریہ93فیصد 2021 میں 10اعشاریہ74فیصد
اشیاءخوردونوش کی قیمتوں کا تقابل: 2018آئل 170 روپے لٹر 2022 آئل 490 روپے لٹر
2018 گندم 23 روپے کلو 2022 گندم 55 روپے کلو
2018 آٹا 35 روپے کلو 2022 آٹا 70 روپے کلو
2018 اے گریڈ دودھ 70 روپے کلو 2022 بی گریڈ دودھ 150 روپے کلو
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا ذرائع سے لئے گئے ہیں، ان میں کسی حد تک تضاد ممکن ہے تاہم زیادہ فرق نہیں ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ ضرور ہے کہ عمران خان نے ایک مبینہ سازش کا عذر تراش کر اپنی حکومت کی بدترین کارکردگی پر پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے جلسوں میں جوق در جوق شرکت سے سابق وزیراعظم کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے تاہم سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ وقتی جوش ہے عوام کو جوں جوں عمران خان کی حکومت کے ناقص اقدامات کا ادراک ہوگا ان کی حمایت کم ہوتی جائیگی اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ انہیں بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر ایک بار معاملہ ٹھنڈا پڑگیا تو بدترین حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ ووٹ لینا مشکل ہوسکتا ہے۔