اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے، مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فوراً وطن واپس لایا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا، نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی وطن واپسی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،اجلاس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال پر طویل مشاورت بھی کی گئی۔
وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیگی مریم نواز نے نیب کے باہر جو کیا اس پر انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔
اجلاس کے دوران وزراء نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی اٹھایا، اجلاس کے دوران کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ کل قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم کی جانب سے افسوسناک زبان استعمال کی گئی۔
وزراء کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کی عزت و تکریم کا بھی احساس نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو بدزبانی کے مرتکب ارکان کی رکنیت معطل کرنا چاہئیے۔
کابینہ اجلاس کے دوران نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت ہوئی، کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ بیماری کا سرٹیفکیٹ دکھا کر ملک بھاگنے والوں کو اب کوئی بیماری نہیں۔ وفاقی کابینہ کابینہ نے ملک سے بھاگے ہوئے مجرم کی وطن واپسی کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ میں پشاور تا طورخم سیکشن شامل کیا جائے۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے مفصل رپورٹ طلب کر لی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی پشاور تا طورخم سیکشن کو ایم ایل ون میں شامل کرنے کی حمایت کر دی۔
وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے خلاف سیاسی محازتیز کرنے پر مشاورت بھی ہوئی، اجلاس کے دوران نوازشریف کووطن واپس لانے مشاورت مکمل کر لی گئی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو وطن واپس لایا جائے، حکومتی لیگل ٹیم نوازشریف کی واپس کے حوالے سے ٹاسک مل گیا۔ کابینہ نے گیارہ نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی۔