اسلام آباد: بجٹ 9 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، سیاسی و معاشی پنڈت اسے انجام دینے کے لیے درکار شرائط پر غور کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) دو سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے: یا تو ایک غیر مقبول بجٹ پیش کرے، ایک ایسی پوزیشن جسے پارٹی فطری طور پر اس یقین دہانی کے بغیر لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے کہ حکومت کے پاس کم از کم ایک سال ہو گا، کم از کم مدت جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اس وقت تمام اہم وزارتیں ہیں جن کا معیشت پر براہ راست اثر ہے، دوسرے اتحادیوں کے مشکل معاشی فیصلوں کا زیادہ تر سیاسی بوجھ اٹھانے کا امکان نہیں ہے۔
تاہم، ساتویں جائزے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بات چیت بظاہر دوحہ میں ختم ہونے کے قریب ہے، حکومت نے سخت شرائط پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی اہم اور واحد جماعت پاکستان تحریک انصاف کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس بجٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔
سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ وہ جو بجٹ پیش کریں گے وہ سیاسی بجٹ ہوگا۔ ایسی صورت میں اسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے منظوری ملنی چاہیے۔
حماد اظہر نے مزید کہا کہ سبکدوش ہونے والی حکومت کو ذمہ دارانہ بجٹ پیش کرنا چاہیے،اگر دونوں فریق مل بیٹھ کر آزادانہ فیصلہ کریں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا، کاروباری برادری نے ‘آئی ایم ایف کے حکم’ کے بجٹ کے خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ماضی کے طرز عمل کے برعکس آئندہ بجٹ کے بارے میں ان پٹ کے لیے تجارت اور صنعت کی قیادت سے رابطہ نہیں کیا۔
مزید پڑھیں:مخلوط حکومت انتخابات کرانے سے خوفزدہ ہے، کیونکہ ان کا صفایا ہوجانا ہے، عمران خان
تاجر برادری کے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ڈی ایم حکومت نے 2023-2024 کے بجٹ میں اپنی سفارشات شامل کرنے کے بارے میں ان سے مشورہ نہیں کیا کیونکہ اس میں ابھی ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے۔ اس سے ان خدشات بڑھیں ہیں کہ بجٹ آئی ایم ایف کے ذریعے وضع کیا جائے گا، جس سے معاشی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








